اسلام آباد: صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا شدہ آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے تین پاکستانی شہریوں کی میتیں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا پہنچ گئی ہیں، جہاں سے انہیں پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات جاری ہیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق متعلقہ حکام اور ایئرلائن عملہ میتوں کی آگے کراچی روانگی کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں میں سید کاشف عمر، احمد انصاری اور رفیع اللہ شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی تھی کہ میتوں کی جلد وطن واپسی کے لیے تمام ممکنہ انتظامات کیے جائیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے۔ وزیراعظم آفس نے بتایا کہ ادیس ابابا پہنچنے کے بعد ایتھوپین ایئرلائنز کا عملہ تابوتوں اور سفری دستاویزات کی جانچ کر رہا ہے، جس کے بعد کراچی کے لیے حتمی کلیئرنس دی جائے گی۔
ایم ٹی آنر 25 ایک پالاؤ پرچم بردار آئل ٹینکر تھا جسے 21 اپریل کو صومالیہ کے پنٹ لینڈ ساحل سے تقریباً 30 سمندری میل دور اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز پر 17 رکنی عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شامل تھے، جبکہ ٹینکر پر تقریباً 18,500 بیرل تیل موجود تھا۔ پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے بعد میں جہاز کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق اس دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے پانچ افراد جان سے گئے، جن میں تین پاکستانی شہری بھی شامل تھے، جبکہ چار عملہ ارکان زخمی ہوئے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملہ ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور ان کی وطن واپسی کے لیے سفارتی رابطے کیے گئے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے میتوں اور زندہ بچ جانے والوں کی جلد واپسی کی اپیل کی تھی۔
میتوں کا ادیس ابابا پہنچنا وطن واپسی کے عمل میں اہم پیش رفت ہے، تاہم حتمی روانگی ایئرلائن اور متعلقہ حکام کی کلیئرنس سے مشروط ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ادارے اس عمل کو تیز کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
یہ واقعہ بحیرہ عرب اور افریقہ کے مشرقی ساحل کے قریب تجارتی جہاز رانی کو درپیش سمندری سلامتی کے خطرات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ پاکستانی حکام نے متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ میتیں جلد از جلد پاکستان پہنچانے کے لیے سفارتی اور انتظامی اقدامات جاری رہیں گے۔
