قراقرم کے اسپانٹک پہاڑ پر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کو کیمپ تھری سے بیس کیمپ منتقل کرنے کی کارروائی شدید موسم کے باعث مؤخر کر دی گئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کی ٹیم کیمپ تھری کے قریب تک پہنچی، لیکن خراب موسم کے سبب اسے کیمپ ٹو واپس آنا پڑا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ڈاکٹر اسما کی میت واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق میت کو پہلے کیمپ تھری سے بیس کیمپ تک لانے کا منصوبہ تھا، مگر بلند مقام پر بدلتی موسمی صورت حال نے پورٹرز کی پیش رفت روک دی۔ وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ متبادل انتظامات کیے گئے ہیں اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے میت کی واپسی کی اجازت دے دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان حکومت اور فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے درمیان رابطہ برقرار ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کو صورت حال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ تمام تفصیلات وزیر اطلاعات کے بیان اور ایکسپریس کی رپورٹ سے منسوب ہیں؛ آئندہ پرواز کے وقت، موسم کے بہتر ہونے یا میت کے بیس کیمپ پہنچنے کی حتمی تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
بلند پہاڑوں پر ریسکیو کارروائی میں زمینی ٹیم اور فضائی منتقلی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مراحل ہوتے ہیں۔ کیمپ تھری تک پہنچنے والی ٹیم کو اپنی حفاظت، حدِ نگاہ اور راستے کی حالت دیکھ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر کی پرواز بھی موسم اور محفوظ لینڈنگ یا ہوورنگ کی صورت حال پر منحصر ہوتی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کسی نئی پرواز کا مقررہ وقت نہیں دیا گیا، اس لیے اجازت ملنے کو کارروائی مکمل ہونے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی وفات پہلے سے رپورٹ شدہ واقعہ ہے؛ موجودہ خبر کا نیا اور قابلِ اشاعت پہلو میت کی منتقلی کی کوشش، پورٹرز کی واپسی، موسمی رکاوٹ اور فضائی متبادل کی اجازت ہے۔ خبر میں حادثے یا میت کی کوئی گرافک تفصیل شامل نہیں کی گئی اور نہ ہی موسم بہتر ہونے کے وقت یا ریسکیو کی کامیابی سے متعلق کوئی غیر مصدقہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگلی پیش رفت متعلقہ حکام یا ریسکیو ٹیم کی تصدیق کے بعد ہی حتمی سمجھی جائے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




