کوئٹہ: بلوچستان کے حکام نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں جرائم کے خلاف تین ہفتوں پر محیط کارروائیوں کے دوران 805 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں 43 اشتہاری اور 296 مفرور ملزمان شامل ہیں۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق مہم بلوچستان پولیس کی تمام سات رینجز میں مطلوب افراد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف چلائی گئی۔ گرفتاری تفتیشی مرحلہ ہے؛ ہر زیرِ حراست شخص کے خلاف الزام اور عدالتی نتیجہ متعلقہ مقدمے میں الگ طے ہوگا۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران 18 اغوا شدہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ رپورٹ میں ہر بازیاب فرد کے مقام، اغوا کی مدت یا ہر مقدمے کی نوعیت کی الگ تفصیل شامل نہیں تھی۔ اسی لیے مجموعی عدد صوبائی حکام کے بیان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، نہ کہ ہر کیس کے مکمل عدالتی ریکارڈ کے متبادل کے طور پر۔
صوبہ گیر کارروائی میں 80 ریوالور اور پستول، آٹھ کلاشنکوف، چھ شاٹ گن اور 682 گولیاں برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ پولیس نے چار مسروقہ گاڑیاں، 14 موٹر سائیکلیں اور 15 موبائل فون برآمد ہونے کی اطلاع دی۔ برآمد اشیا کا کس مقدمے یا ملزم سے تعلق ہے، یہ تفتیش، فرانزک جانچ اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد سے واضح ہوگا۔
منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 165 کلوگرام سے زیادہ چرس اور تقریباً چار کلوگرام میتھ ایمفیٹامین، جسے مقامی طور پر آئس یا شیشہ بھی کہا جاتا ہے، ضبط کرنے کی اطلاع دی گئی۔ حکام نے ہیروئن، گٹکے کے آٹھ تھیلے اور شراب کی بوتلیں و کین برآمد کرنے کا بھی کہا۔ یہ مقداریں پولیس کے مجموعی آپریشنل اعداد ہیں؛ ڈان کی رپورٹ میں ہر ضبطی کے لیبارٹری نتائج یا الگ ایف آئی آر نمبر درج نہیں تھے۔
بڑی تعداد میں گرفتاریاں اور برآمدگیاں مہم کے پیمانے کو ظاہر کرتی ہیں، مگر قانون کے مطابق الزام ثابت کرنا استغاثہ اور عدالت کی ذمہ داری ہے۔ اہم اگلے مراحل میں مقدمات کا اندراج، مطلوب افراد کی شناخت کی تصدیق، مغویوں کے بیانات، ضبط شدہ مواد کی فرانزک جانچ اور عدالتوں میں چالان شامل ہوں گے۔ اردو ہیڈلائنز حکام کے دعوے، گرفتاری، برآمدگی اور حتمی سزا کو الگ قانونی مراحل کے طور پر بیان کرتا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




