پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ 27 ستمبر کو ہوگا اور اس تاریخ پر واپسی یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ڈان کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ہنگو میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران مارچ کی خود قیادت کرنے اور عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے سیاسی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی ہے؛ مارچ کے انتظامی اجازت ناموں، راستوں یا سکیورٹی پلان کی حتمی تفصیل رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

سہیل آفریدی نے کارکنوں سے تیاری کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقصد حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔ انہوں نے پہلے بتائے گئے 20 لاکھ شرکا کے ہدف کو بڑھا کر 40 لاکھ کرنے کا دعویٰ کیا۔ شرکا کی یہ تعداد وزیراعلیٰ کا سیاسی ہدف ہے، آزادانہ اندازہ یا تصدیق شدہ رجسٹریشن نہیں۔ کسی اجتماع کی حقیقی تعداد، راستہ اور انتظامات وقوعہ کے وقت ہی معتبر طور پر جانچے جا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر وفاقی حکومت کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا الزام تھا کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت پر مقررہ وقت میں عمل نہ کر کے عدالتی اختیار کمزور کیا گیا۔ حکومت اس معاملے میں سکیورٹی حالات اور پمز میں ماہرین کے معائنے کا الگ مؤقف پیش کر چکی ہے۔ سہیل آفریدی کی تقریر کے الزامات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

خطاب میں انہوں نے قانون کے مساوی اطلاق، کسانوں اور صنعت کاروں کے مسائل، مہنگائی، قرض اور نوجوانوں کی سیاسی شرکت کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صنعتی سرمایہ بیرون ملک جا رہا ہے اور عام آدمی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ان اعداد و سیاسی تجزیوں کے لیے ڈان کی رپورٹ میں الگ معاشی ڈیٹاسیٹ شامل نہیں تھا، اس لیے خبر ان دعووں کو مقرر سے منسوب رکھتی ہے۔

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی وزرا شفیع جان اور مینا خان آفریدی سمیت دوسرے پارٹی عہدیدار بھی اجتماع میں موجود تھے۔ موجودہ خبر کا مادی نکتہ 27 ستمبر کی تاریخ کی دوبارہ تصدیق، وزیراعلیٰ کی قیادت کا اعلان اور احتجاج کے مقصد کی وضاحت ہے۔ مارچ کے روٹ، اجازت، وفاقی و ضلعی ردعمل یا مذاکرات میں تبدیلی آنے کی صورت میں اسی واقعے کو نئی معلومات کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے، الگ duplicate خبر نہیں بنانی چاہیے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک