ڈربن: آسٹریلیا کے تجربہ کار کرکٹر اسٹیو اسمتھ نے ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹ کیپر کے علاوہ فیلڈرز کی جانب سے سب سے زیادہ کیچ لینے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن کے کنگزمیڈ گراؤنڈ میں پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن انہوں نے چار کیچ پکڑے جس سے ان کے ٹیسٹ کیریئر میں کیچوں کی تعداد 223 ہوگئی۔ اے ایف پی کی ڈان میں 12 اکتوبر 2026 کو شائع رپورٹ کے مطابق اسمتھ نے یہ سنگ میل اپنے 126ویں ٹیسٹ میں عبور کیا۔

دن کے آغاز پر اسمتھ کے کیچوں کی تعداد 219 تھی، جو انگلینڈ کے جو روٹ کے ریکارڈ سے ایک کم تھی۔ انہوں نے جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما کا کیچ پکڑ کر روٹ کا ریکارڈ برابر کیا۔ اس کے بعد پیٹ کمنز کی گیند پر دوسرے سلپ میں ڈیوڈ بیڈنگھم کا مشکل کیچ پکڑ کر نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اسمتھ نے کائل ویرینے کا ایک شاندار کیچ بھی لیا اور جنوبی افریقہ کی اننگز کے آخری بلے باز اینرک نورکیا کو بھی سلپ میں قابو کیا۔

ریکارڈ کے ساتھ آسٹریلیا کی میچ میں پوزیشن بھی مضبوط رہی۔ اس کی پہلی اننگز کے 390 رنز کے جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 284 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ اس کے بعد آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 33 رنز کا اضافہ کیا۔ نِک میڈنسن 17 اور ٹریوس ہیڈ 10 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے جب مسلسل تیسرے دن خراب روشنی کے باعث کھیل روک دیا گیا۔ اس وقت آسٹریلیا کی مجموعی برتری 139 رنز تھی، تاہم میچ کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔

آسٹریلیا کی پہلی اننگز میں میٹ رینشا کی 190 رنز کی اننگز بھی نہایت اہم رہی۔ رینشا نے نیتھن لائن کے ساتھ نویں وکٹ پر 134 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی تھی، جس سے ٹیم کا مجموعہ 390 تک پہنچانے میں مدد ملی۔ لائن نے رینشا کی بیٹنگ، منصوبہ بندی اور ساتھی کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی صلاحیت کو سراہا۔

اسمتھ کا 223 کیچوں کا ریکارڈ فیلڈنگ کی مسلسل کارکردگی کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں صرف 11 ماہر وکٹ کیپر ایسے ہیں جن کے مجموعی کیچ اس تعداد سے زیادہ ہیں۔ وکٹ کیپروں کی الگ ذمہ داریوں کے باعث یہ ریکارڈ عام فیلڈرز کی درجہ بندی میں بیان کیا جارہا ہے۔ ڈربن ٹیسٹ کے اس مرحلے پر ریکارڈ اور تیسرے دن کے اسکور کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ آخری نتیجہ آنے سے پہلے کسی ٹیم کو میچ کا فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔