اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے حقِ مہر سے متعلق ایک تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مہر بیوی کا قابلِ نفاذ قانونی حق ہے اور اسے بیوی کی کسی “قیمت” کے طور پر بیان کرنا درست قانونی تصور نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر نکاح کے وقت کسی جائیداد کو مہر کے طور پر طے کیا گیا ہو لیکن بعد میں اس جائیداد کی منتقلی ممکن نہ رہے تو شوہر محض اسی وجہ سے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں طے شدہ جائیداد کی متفقہ قیمت ادا کرنا لازم رہے گا۔

Express Tribune کے مطابق چار رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے کی، نے تفصیلی فیصلے میں مہر کی قانونی اور شرعی حیثیت پر زور دیا۔ عدالت نے کہا کہ مہر نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک مالی حق ہے جسے عدالتوں کو بلاوجہ تاخیر کے بغیر نافذ کرنا چاہیے۔ فیصلے میں یہ اصول بھی بیان کیا گیا کہ جائیداد بطور مہر مقرر ہونے کے باوجود منتقلی میں رکاوٹ آ جائے تو اصل مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

عدالت کے مطابق اگر نکاح نامے یا باہمی طے شدہ شرائط میں اس جائیداد کی قیمت درج ہو تو شوہر اس متفقہ قدر کا ذمہ دار ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق فیصلے کا مقصد اس تصور کی اصلاح بھی ہے کہ مہر کو ازدواجی تعلق کے عوض ادا کی جانے والی “قیمت” سمجھا جائے۔ سپریم کورٹ نے اس تعبیر کو doctrinal error قرار دیتے ہوئے مہر کو بیوی کے وقار اور مالی حق سے جوڑا۔

یہ فیصلہ خاندانی قوانین کے ان مقدمات کے لیے اہم ہے جن میں مہر سونے، نقد رقم کے بجائے گھر، زمین یا دوسری جائیداد کی شکل میں مقرر کیا جاتا ہے اور بعد میں ملکیت یا منتقلی کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے تنازع میں محض یہ کہنا کافی نہیں کہ مخصوص جائیداد منتقل نہیں ہوسکتی؛ عدالت کو مہر کی اصل ذمہ داری کو مؤثر طور پر نافذ کرنا ہوگا۔

فیصلے کا اطلاق ہر خاندانی تنازع کے حقائق اور نکاح نامے کی شرائط کے مطابق ہوگا، اس لیے اسے ہر مقدمے میں خودکار طور پر یکساں رقم یا نتیجے کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ البتہ عدالت نے بنیادی قانونی اصول واضح کردیا ہے کہ طے شدہ مہر بیوی کا حق ہے، اور جائیداد کی منتقلی ناممکن ہونے سے وہ حق ختم نہیں ہوتا۔ متعلقہ مقدمات میں فریقین کے شواہد، نکاح نامہ اور مقررہ قدر عدالتی فیصلے میں اہم رہیں گے۔