اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حق مہر اسلامی قانون کے تحت نکاح کا لازمی قانونی حق ہے اور شوہر پر لازم ہے کہ وہ اسے نیک نیتی سے، طے شدہ وقت پر اور ایسی شرائط کے بغیر ادا کرے جو بیوی کے وقار کو مجروح کریں۔ عدالت نے کہا کہ اگر حق مہر ادا نہ کیا جائے تو عدالتوں کو قانون کے مکمل اختیار کے ساتھ مداخلت کرنی چاہیے۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل چار رکنی بینچ نے نکاح نامے میں حق مہر سے متعلق درج شرائط کے قانونی اثرات پر دائر سول اور فوجداری درخواستوں کے ایک مجموعے پر متفقہ فیصلہ سنایا۔ 26 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر نہ تو بیوی کی ’قیمت‘ ہے اور نہ ہی اسے عام تجارتی معاہدے کے عوض یا سودے بازی کے آلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فیصلے کے مطابق یہ بیوی کا خصوصی ملکیتی حق ہے اور اس کا تعلق انسانی وقار، قانون کے سامنے مساوات، خاندان کے تحفظ اور اسلامی احکامات سے جڑی آئینی اقدار سے بھی ہے۔
سپریم کورٹ نے نکاح رجسٹراروں کو ہدایت کی کہ نکاح نامے کی متعلقہ شقیں درست طور پر درج کی جائیں اور فریقین کو ان اندراجات کی وضاحت بھی کی جائے۔ اس ہدایت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حق مہر سے متعلق شرائط واضح ہوں اور بعد میں ابہام یا ایسی تشریحات پیدا نہ ہوں جو کسی فریق، خصوصاً بیوی، کے قانونی حق کو متاثر کریں۔
عدالت نے اس اصول پر زور دیا کہ شوہر حق مہر کے ساتھ ایسی شرائط منسلک نہیں کر سکتا جو بیوی کو نیچا دکھائیں یا اس کے حق کو غیرمناسب طور پر محدود کریں۔ فیصلہ نکاح نامے میں درج حق مہر کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کے لیے ماتحت عدالتوں اور نکاح رجسٹراروں کے کردار کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

