اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حق مہر سے متعلق مقدمات میں متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مہر اسلامی قانون کے تحت نکاح کا لازمی قانونی تقاضا اور بیوی کا خصوصی ملکیتی حق ہے، جسے شوہر کسی ایسی شرط سے مشروط نہیں کر سکتا جو عورت کی عزت و وقار کو مجروح کرے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے نکاح نامے میں درج مہر اور اس سے متعلق شرائط کے قانونی اثرات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اگر مہر ادا نہ کیا جائے تو عدالتوں کو قانون کے مکمل اختیار کے ساتھ بیوی کے حق کا تحفظ کرنا چاہیے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ مہر نہ تو بیوی کی قیمت ہے اور نہ ہی ایسا معاملہ جسے بعد کے ازدواجی تنازعات میں دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ عدالت کے مطابق مہر بیوی کا حق ملکیت ہے اور اس حق کی تعبیر کرتے ہوئے عدالتوں کو نکاح کے ثابت شدہ معاہدے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔

جسٹس شاہد بلال حسن نے اضافی نوٹ میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اور متعلقہ قواعد پر سختی سے عمل کی ہدایات بھی دیں۔ نکاح رجسٹراروں کو کہا گیا ہے کہ نکاح نامے کے متعلقہ خانے مکمل، درست اور غیر مبہم انداز میں پُر کریں، خصوصاً مہر سے متعلق خانوں میں رقم، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی مکمل تفصیل درج کی جائے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ رجسٹرار دستخط یا انگوٹھا لگوانے سے پہلے متعلقہ اندراجات فریقین کو پڑھ کر سنائیں یا سمجھائیں۔ خصوصی شرائط، تفویضِ طلاق اور مہر کے طور پر دی گئی جائیداد سے متعلق اندراجات فریقین کے حقیقی معاہدے کی عکاسی کریں اور رجسٹرار اپنی طرف سے شرائط شامل نہ کریں۔

فیصلے میں متعلقہ یونین کونسل حکام کو نکاح رجسٹراروں کی تربیت، ریکارڈ کے معائنے اور قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت نے انفرادی مقدمات کے میرٹ پر رائے دینے سے گریز کرتے ہوئے انہیں مناسب بینچوں کے سامنے الگ الگ فیصلے کے لیے رکھنے کا حکم دیا۔