اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو 2023 کے یونان کشتی سانحے کے تناظر میں بعض افسران کے کردار سے متعلق نئی محکمانہ انکوائری کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم ان افسران کی ملازمت پر بحالی سے متعلق فیڈرل سروس ٹریبونل کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایف آئی اے نئی کارروائی کرنا چاہے تو اسے قانونی تقاضے اور متعلقہ افسران کا حقِ سماعت پورا کرنا ہوگا۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایف آئی اے کی ان اپیلوں کی سماعت کی جن میں 14 اپریل کے فیڈرل سروس ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے یونان کے ساحل کے قریب 2023 میں پیش آنے والے مہلک کشتی حادثے کے بعد 40 افسران کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ان افسران پر الزام تھا کہ انہوں نے کمزور مسافروں کی انسانی اسمگلنگ میں مبینہ سہولت کاری کی۔ یہ الزامات محکمانہ کارروائی کا حصہ تھے اور نئی انکوائری میں بھی ذمہ داری کا تعین ثبوت اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہونا ہے۔

عدالت میں وفاق کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریبونل نے برطرفیوں کو بنیادی طور پر طریقہ کار کی خامیوں کی وجہ سے ختم کیا، جن میں مناسب سماعت اور جرح کا موقع نہ دینا شامل تھا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ شفقت عباسی نے استدلال کیا کہ لاہور، کراچی اور ملتان کے ہوائی اڈوں پر تعینات متعلقہ اہلکاروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ لیبیا جانے والے مسافروں کے ٹکٹ، پاسپورٹ، ویزے اور سفر کے مقصد کی جانچ کریں۔

ایف آئی اے کے وکیل کے مطابق مختلف ہوائی اڈوں سے بڑی تعداد میں افراد کا جنگ زدہ لیبیا جانا اضافی جانچ کا تقاضا کرتا تھا۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اگر پہلی محکمانہ کارروائی میں قانونی یا طریقہ کار کی خامیاں تھیں تو ادارے کو ازسرنو انکوائری کی اجازت دی جائے، تاکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی وہ اپیل مسترد کر دی جس کے ذریعے افسران کی بحالی کا ٹریبونل فیصلہ ختم کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے معاملہ ایف آئی اے کو واپس بھیجتے ہوئے کہا کہ جن افسران کے خلاف ریکارڈ پر شواہد موجود ہوں، ان کے بارے میں ادارہ مناسب سمجھے تو قانون کے مطابق نئی انکوائری شروع کر سکتا ہے۔ نئی کارروائی میں متعلقہ افسران کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق 2023 کے حادثے میں لیبیا سے روانہ ہونے والے تقریباً 286 افراد میں سے 155 ہلاک ہوئے تھے۔ مقدمے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور ذمہ داری سے متعلق دعوے عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں۔ سپریم کورٹ کا موجودہ حکم کسی افسر کو قصوروار قرار نہیں دیتا بلکہ محکمانہ ذمہ داری کی نئی، قانونی طریقہ کار کے مطابق جانچ کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔