اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نکاح رجسٹراروں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ قانونی طور پر مقررہ نکاح نامہ ہی استعمال کریں اور اس کے تمام متعلقہ کالم پوری احتیاط کے ساتھ مکمل کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی کالم کو بلا قانونی وجہ خالی یا غیر ضروری نہ سمجھا جائے، کیونکہ فارم میں ہر اندراج ایک مخصوص قانونی مقصد کے لیے رکھا گیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے مختلف فیصلوں سے متعلق مقدمات میں 26 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ زیر غور سوالات کسی ایک نکاح نامہ شق یا صرف میاں بیوی کے نجی حقوق تک محدود نہیں بلکہ مسلم عائلی قانون کے قانونی ڈھانچے سے تعلق رکھتے ہیں۔

فیصلے میں حق مہر کو نکاح کا لازمی قانونی حق قرار دیتے ہوئے نکاح نامے کے کالم 13 سے 16 پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت کے مطابق کالم 13 میں فریقین کے درمیان طے شدہ کل حق مہر واضح طور پر درج ہونا چاہیے، خواہ وہ رقم، منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی شکل میں ہو۔ اگر کوئی جائیداد حق مہر کے طور پر دی جانی ہو تو کالم 16 میں اس کی شناخت کے لیے مناسب تفصیل، پیمائش، مقام اور اگر طے ہوا ہو تو قیمت درج کی جائے۔

عدالت نے کہا کہ رجسٹرار دستخط یا انگوٹھے کے نشان لینے سے پہلے متعلقہ اندراجات فریقین کو پڑھ کر سنائے یا سمجھائے، خصوصاً حق مہر، خصوصی شرائط، تفویضِ طلاق اور جائیداد سے متعلق شقوں میں۔ کالم 17 میں کوئی خصوصی شرط ہو تو اسے فریقین کے طے کردہ الفاظ اور مفہوم کے مطابق واضح انداز میں لکھا جائے؛ رجسٹرار اپنی طرف سے مفروضے یا ذاتی تشریح کی بنیاد پر اندراج نہ کرے۔

فیصلے میں متعلقہ یونین کونسلوں کے چیئرمین یا سیکریٹری سمیت مجاز حکام کو بھی ہدایت کی گئی کہ لائسنس یافتہ نکاح رجسٹراروں کو نکاح نامے کے قانونی مقصد اور ہر کالم کو درست انداز میں پُر کرنے کے طریقے سے واقف کرایا جائے۔ وقتاً فوقتاً تربیت اور رجسٹروں کا معائنہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی رجسٹرار قانونی فرائض یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے تو مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

عدالت کی یہ ہدایات آئندہ نکاح ناموں میں فریقین کے طے شدہ حقوق اور شرائط کو زیادہ واضح اور غیر مبہم طور پر ریکارڈ کرنے پر مرکوز ہیں۔ فیصلے میں ریکارڈ محفوظ رکھنے، میاں بیوی کو مقررہ نقول فراہم کرنے اور متعلقہ یونین کونسل کو مطلوبہ نقل بھیجنے کی ذمہ داری بھی یاد دلائی گئی ہے۔