اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گاڑیوں کی کسٹمز درجہ بندی سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ کسی گاڑی کا اصل مینوفیکچرنگ ڈیزائن اس کی ٹیرف درجہ بندی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور بعد میں کی گئی نجی تبدیلی اس اصل کردار کو خود بخود تبدیل نہیں کرتی۔ فیصلہ ایک اسٹریچ لیموزین کے تنازع سے متعلق تھا جسے اصل میں پانچ افراد کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
جسٹس محمد شفیع صدیقی نے سات صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ بعد کی تبدیلی گاڑی کی جسمانی ساخت بدل سکتی ہے، مگر ٹیرف درجہ بندی کے مقصد کے لیے اس ڈیزائن اور کردار کو تبدیل نہیں کرتی جس کے ساتھ گاڑی اصل میں تیار ہوئی تھی۔ تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کی، جبکہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی بینچ میں شامل تھے۔
تنازع ایک درآمد شدہ لیموزین سے پیدا ہوا جسے کلیئرنگ ایجنٹ نے پاکستان کسٹمز ٹیرف کی ہیڈنگ 87.02 کے تحت ظاہر کیا تھا، جو ڈرائیور سمیت 10 یا زیادہ افراد کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن کی گئی گاڑیوں سے متعلق ہے۔ کسٹمز حکام نے معائنے کے بعد کہا کہ گاڑی اصل میں پانچ نشستوں والی موٹر کار تھی جسے بعد میں اسٹریچ کیا گیا، اس لیے اسے ہیڈنگ 87.03 کے تحت رکھا جانا چاہیے۔
درآمد کنندہ نے مختلف فورمز پر کسٹمز کی درجہ بندی کو چیلنج کیا۔ کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل نے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور پشاور ہائیکورٹ نے بھی اس نتیجے کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد کلکٹر کسٹمز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اعلیٰ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے کسٹمز کی اپیل منظور کر لی۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ درآمد کے وقت اضافی نشستوں کی موجودگی بذات خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ گاڑی اصل مینوفیکچرنگ کے وقت 10 یا زیادہ افراد کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی۔ عدالت نے دستیاب ریکارڈ میں اصل ڈیزائن اور تعمیر کو فیصلہ کن اہمیت دی۔
یہ فیصلہ مخصوص کسٹمز تنازع میں دیا گیا ہے اور اس کا عملی اثر اسی قانونی اصول کے ذریعے دیگر مماثل درجہ بندی کے معاملات پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ہر گاڑی کا حتمی ٹیرف تعین اس کے اصل ڈیزائن، دستاویزی ریکارڈ، متعلقہ ٹیرف ہیڈنگ اور کیس کے حقائق کی بنیاد پر ہوگا۔
