اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ٹائم اسکیل ترقی سے متعلق تنازع میں قرار دیا ہے کہ بعد میں جاری ہونے والی انتظامی پابندیوں یا شرائط کو ایسے ملازمین کے خلاف سابقہ تاریخ سے استعمال نہیں کیا جا سکتا جن کے حقوق پہلے کے قواعد اور آفس میمورنڈمز کے تحت پیدا ہو چکے ہوں۔ عدالت نے وزیراعظم آفس، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر متعلقہ محکموں کو متاثرہ ملازمین کے معاملات دوبارہ جانچنے کی ہدایت کی ہے۔
مقدمے میں بنیادی سوال مختلف اوقات میں جاری ہونے والے آفس میمورنڈمز کی تشریح اور ان کے اطلاق سے متعلق تھا۔ سرکاری ملازمین نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں پہلے سے موجود پالیسی کے تحت ٹائم اسکیل ترقی کا حق حاصل ہوا، جبکہ بعد کے انتظامی احکامات کی بنیاد پر اس حق کو محدود یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے مختلف پالیسی دستاویزات اور ان کی موثر تاریخوں کا حوالہ دیا گیا۔
عدالت کے سامنے سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے تنازع حل کرنے کے لیے ایک متفقہ طریقہ کار پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ ہر ملازم کا معاملہ اس وقت نافذ قواعد، پالیسی اور متعلقہ آفس میمورنڈم کی روشنی میں الگ سے دیکھا جائے جب اس کا دعویٰ پیدا ہوا تھا۔ بعد میں متعارف ہونے والی پابندی کو خودکار طور پر پہلے کے عرصے پر لاگو نہیں کیا جائے گا۔
ٹائم اسکیل ترقی عام طور پر ایسے سرکاری ملازمین کے لیے انتظامی طریقہ کار ہے جو مقررہ مدت تک ایک ہی گریڈ یا عہدے میں خدمات انجام دیتے ہیں اور باقاعدہ ترقی کے محدود مواقع کے باعث مالی یا گریڈ سے متعلق پیش رفت کے اہل قرار پاتے ہیں۔ اس کا دائرہ اور شرائط مختلف سرکاری پالیسیوں اور ملازمت کے قواعد کے مطابق بدل سکتی ہیں۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کا عملی اثر یہ ہوگا کہ متعلقہ محکمے زیر التوا یا متنازع کیسز کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور ہر درخواست گزار کے حق کا تعین اس وقت نافذ پالیسی کے مطابق کریں گے۔ عدالت نے کسی ایک عمومی نتیجے کے بجائے انتظامیہ کو انفرادی معاملات قانون اور موثر پالیسی تاریخوں کے مطابق حل کرنے کا طریقہ دیا ہے۔

