پاکستان کی ٹیلی کام صنعت کی نمائندہ تنظیم نے وفاقی حکومت سے پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی شق 42(f) واپس لینے کی درخواست کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ خزانہ، وزیرِ منصوبہ بندی اور وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھیجے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ اس شق کے تحت بعض سرکاری اداروں کو کھلی اور مسابقتی بولی کے بغیر وقت کی پابندی یا عوامی مفاد سے متعلق کام اور خدمات دی جا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ شق ایس آر او 834(I)/2021 کے ذریعے قواعد میں شامل کی گئی تھی۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ براہِ راست معاہدوں کی گنجائش نجی کمپنیوں کے لیے مساوی مسابقتی میدان محدود کر سکتی ہے، جبکہ ٹیلی کام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری، تکنیکی مہارت اور مسلسل جدت درکار ہوتی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ سرکاری خریداری میں کھلی بولی، واضح اہلیت اور یکساں شرائط کو بنیادی طریقہ بنایا جائے تاکہ قیمت، معیار اور عملدرآمد کے تقاضوں کا غیر جانب دارانہ موازنہ ممکن ہو۔
ایسوسی ایشن نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر کسی سرکاری ادارے کو براہِ راست کام ملنے کے بعد وہی کام آگے کسی نجی فریق کو دے دیا جائے تو اصل مسابقتی عمل غیر مؤثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے تنظیم نے شق ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے معاہدوں میں ذیلی ٹھیکے دینے کی گنجائش پر بھی واضح پابندی یا سخت نگرانی کی تجویز دی ہے۔ یہ تمام نکات ایسوسی ایشن کے مؤقف اور مطالبات ہیں؛ حکومت یا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کی اطلاع رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
ٹیلی کام شعبے کے لیے خریداری کے قواعد کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ فائبر، ڈیٹا مراکز، سرکاری رابطہ نظام اور ڈیجیٹل خدمات کے منصوبوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری شامل ہوتی ہے۔ کھلی بولی کے حامی اسے لاگت اور معیار کے تقابل کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ خصوصی حالات میں براہِ راست خریداری کے حامی تیز عملدرآمد کی دلیل دیتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کی درخواست کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ حکومت رفتار اور ہنگامی ضرورت کے ساتھ شفافیت، جواب دہی اور نجی شعبے کی شرکت میں کیا توازن قائم کرتی ہے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




