تھرپارکر: سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں ایک دیہی مرکز صحت پر ایمبولینس میں آگ لگنے کے واقعے میں سات افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ بدھ کی رات تقریباً 10 بج کر 40 منٹ پر دانو دندل گاؤں کے رورل ہیلتھ سینٹر میں پیش آیا، جہاں عملہ ایک مریض کو ایمبولینس میں منتقل کر رہا تھا۔
ریسکیو 1122 کے اہلکار حبیب اللہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں آگ لگنے سے پہلے گیس سلنڈر کے ممکنہ دھماکے کا ذکر کیا گیا ہے۔ دھماکے کی حتمی وجہ متعلقہ حکام کی تحقیقات سے طے ہوگی، اس لیے اسے فی الحال مشتبہ گیس سلنڈر دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، مقامی انتظامیہ اور نگرپارکر کی اسسٹنٹ کمشنر ارم کریم جائے وقوع پر پہنچیں۔
زخمیوں کو علاج کے لیے مٹھی اور نگرپارکر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں مرکز صحت کا وہ عملہ بھی شامل تھا جو مریضوں کی منتقلی میں مدد کر رہا تھا۔ جاں بحق افراد کی شناخت خبر شائع ہونے کے وقت مکمل طور پر سامنے نہیں آئی تھی اور حکام ان کی شناخت کے عمل میں مصروف تھے۔
آگ سے ایمبولینس مکمل طور پر جل گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایمبولینس پاکستان پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو، پی پی ایچ آئی، کی ملکیت تھی اور متعلقہ رورل ہیلتھ سینٹر بھی اسی ادارے کے زیر انتظام تھا۔ واقعے نے دیہی صحت مراکز میں ایمرجنسی گاڑیوں، گیس سلنڈرز اور مریضوں کی منتقلی کے دوران حفاظتی انتظامات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
تاحال حکام نے یہ حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا کہ آگ کی بنیادی وجہ سلنڈر کی خرابی، لیکیج، تکنیکی نقص یا کوئی دوسرا عامل تھا۔ اسی لیے ذمہ داری کے تعین یا کسی ادارے کی غفلت کا نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ متعلقہ حکام واقعے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
تھرپارکر کے دور دراز علاقوں میں مریضوں کی فوری منتقلی کے لیے ایمبولینس سروس بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس حادثے کے بعد تحقیقات سے یہ واضح ہونا ضروری ہوگا کہ ایمبولینس میں نصب یا موجود گیس سلنڈر اور دوسرے حفاظتی آلات کی حالت کیا تھی، گاڑی کا آخری تکنیکی معائنہ کب ہوا اور مرکز صحت میں ایمرجنسی رسپانس کے ضابطوں پر کس حد تک عمل کیا جا رہا تھا۔
