فیصل آباد: یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز نے پاکستان میں ہائبرڈ گندم کی تحقیق، ترقی، جانچ اور ممکنہ تجارتی استعمال کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں اداروں نے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد جامعات کی سائنسی مہارت کو نجی شعبے کی بیج اور زرعی تحقیق کی صلاحیت کے ساتھ جوڑنا ہے۔

پاکستان میں گندم سب سے اہم غذائی فصلوں میں شامل ہے، لیکن فی ایکڑ پیداوار، پانی کی دستیابی، گرمی کی لہروں، بیماریوں اور موسمی بے یقینی جیسے عوامل مستقبل کی غذائی سلامتی کے لیے چیلنج بن رہے ہیں۔ ہائبرڈ گندم کی تحقیق کا مقصد ایسے جینیاتی امتزاج تلاش کرنا ہوتا ہے جو روایتی اقسام کے مقابل بہتر پیداوار یا مخصوص دباؤ کے خلاف زیادہ مزاحمت دے سکیں۔ تاہم ہر ہائبرڈ مقامی حالات میں لازماً بہتر کارکردگی دکھائے، یہ ضروری نہیں؛ وسیع فیلڈ ٹرائلز اس لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

معاہدے کے تحت تحقیق اور جانچ کے بعد کامیاب مواد کی ممکنہ کمرشلائزیشن بھی زیر غور ہوگی۔ کسی نئی بیج ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچانے سے پہلے پیداوار، معیار، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، مختلف آب و ہوا میں کارکردگی اور بیج کی لاگت جیسے عوامل کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کے مختلف زرعی زونز میں مٹی، درجہ حرارت اور آبپاشی کے حالات مختلف ہونے کی وجہ سے ایک ہی قسم کے نتائج پورے ملک پر لاگو نہیں کیے جاسکتے۔

جامعہ اور صنعت کے درمیان تعاون زرعی تحقیق کو تجربہ گاہ سے کھیت تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نجی شعبہ بیج کی افزائش، پیداوار اور تقسیم کے لیے سرمایہ اور تجارتی نظام فراہم کرسکتا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے محققین جینیات، پودوں کی افزائش اور فیلڈ تجربات میں سائنسی معاونت دے سکتے ہیں۔ واضح دانشورانہ ملکیت، بائیو سیفٹی اور بیج منظوری کے قواعد اس عمل میں اہم رہیں گے۔

یہ لیٹر آف انٹینٹ فوری طور پر کسی نئی ہائبرڈ گندم کی تجارتی دستیابی کا اعلان نہیں ہے۔ اصل پیش رفت تحقیق اور فیلڈ ٹرائلز کے نتائج، ریگولیٹری منظوری اور کسانوں کے لیے معاشی افادیت سے طے ہوگی۔ اگر کامیاب اقسام تیار ہوتی ہیں تو وہ موسمیاتی دباؤ کے مقابل پیداوار برقرار رکھنے اور ملک کی گندم کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔