اسلام آباد: ٹیلی کام کمپنی یوفون کی ممکنہ ری برانڈنگ کا معاملہ حکومت کی منظوری کا منتظر ہے۔ ڈان کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کو 14 ستمبر کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یوفون کی انتظامیہ نے کمپنی کا برانڈ نام متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی ’e&‘ کے مطابق تبدیل کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے اجازت مانگی ہے، لیکن اس معاملے میں مزید سرکاری منظوری درکار ہے۔
پی ٹی اے کے چیئرمین ریٹائرڈ میجر جنرل حفیظ الرحمٰن نے کمیٹی کو بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اتھارٹی کو مجوزہ ری برانڈنگ کی منظوری دینے سے روکا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نوعیت کی تبدیلی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی سطح پر منظوری سے مشروط ہے۔ دوسری جانب سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن موبائل لمیٹڈ، جو یوفون چلاتی ہے، نے نام کی تبدیلی کے لیے پی ٹی اے سے رجوع کیا ہے اور اس معاملے پر مختلف اداروں کی آرا زیر بحث ہیں۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مسابقتی کمیشن پاکستان اور پی ٹی اے کے درمیان بعض ضابطہ جاتی پہلوؤں پر مختلف رائے سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق اگر نام تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ قابل اطلاق قوانین اور قواعد کے مطابق اور وفاقی حکومت کی ضروری منظوریوں کے بعد ہی ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال یوفون کی نئی برانڈ شناخت کو حتمی یا نافذ شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ معاملہ ایسے وقت زیر غور ہے جب پی ٹی سی ایل نے ٹیلی نار پاکستان کے کاروبار کا حصول کیا اور یوفون و ٹیلی نار کے انضمامی عمل کے بعد موبائل مارکیٹ کی ساخت میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو ملک کے بڑے شہروں میں رابطے اور نیٹ ورک کے مسائل کے بارے میں بھی بریف کیا اور ان مسائل کو انضمامی سرگرمیوں اور فائیو جی کے اجرا سے منسلک کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صورتحال اگلے ماہ بہتر ہو گی۔
اجلاس میں ٹیلی کام اور سیٹلائٹ رابطوں کے دوسرے امور بھی زیر بحث آئے۔ کمیٹی نے پاک ڈیٹاکام کی سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کو پاک سیٹ سے متحدہ عرب امارات کی یاہ سیٹ سروس کی طرف منتقل کرنے پر قومی سلامتی سے متعلق خدشات اٹھائے۔ اسٹارلنک کی لائسنسنگ پر بحث مؤخر کی گئی، کیونکہ پی ٹی اے نے بتایا کہ اس کے پاس اس وقت اسٹارلنک کی کوئی لائسنس درخواست زیر التوا نہیں اور معاملہ دوسرے حکومتی محکموں کی کلیئرنس سے متعلق ہے۔
