برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹپو عثمان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور کاروباری تجربہ بھی لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، رئیل اسٹیٹ، ہاسپیٹیلٹی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ مخصوص ٹیکنالوجی زونز میں اہل سرگرمیوں کے لیے ٹیکس مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔

ہائی کمشنر نے یہ بات لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت مقبول حسین اعوان سے ملاقات کے بعد کہی۔ اعوان نے بتایا کہ وہ برطانوی کمپنیوں اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ رابطے بڑھانے اور پاکستان میں موجود کاروباری مواقع، خصوصاً ٹیکس فری زونز اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں، کو متعارف کرانے کے لیے برطانیہ آئے ہیں۔

ملاقات میں پاکستان میں جاری تعمیراتی، ہوٹل، مالز اور ٹیکنالوجی زونز سے متعلق منصوبوں کا بھی ذکر ہوا۔ اعوان نے دعویٰ کیا کہ ان کا کاروباری گروپ تقریباً ایک کروڑ مربع فٹ پر مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اس دعوے کی تفصیلات خبر میں کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں اور اسے کسی آزاد سرکاری آڈٹ یا الگ تصدیقی ڈیٹا کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

ہائی کمشنر ٹپو عثمان نے پاکستان میں قائم کیے جا رہے خصوصی ٹیکنالوجی زونز کو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ایک موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مقامی کاروبار کے ساتھ شراکت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، چین اور دیگر ممالک کی کمپنیاں پاکستان کے ٹیکنالوجی شعبے میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اہل سرگرمیوں کے لیے ٹیکنالوجی زون فریم ورک کے تحت صفر ٹیکس یا دوسری مراعات دستیاب ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی منصوبے میں سرمایہ لگانے سے پہلے متعلقہ زون کی قانونی حیثیت، ٹیکس اہلیت، لائسنسنگ، زمین یا اثاثے کی ملکیت اور ریگولیٹری شرائط کی الگ تصدیق کریں، کیونکہ مراعات ہر سرگرمی یا ہر کمپنی پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتیں۔

ملاقات کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ اوورسیز پاکستانی صرف سرمایہ نہیں بلکہ جدید مہارت، انتظامی تجربہ اور بین الاقوامی کاروباری روابط کے ذریعے بھی مقامی صنعت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اپیل کسی نئے سرمایہ کاری پیکیج یا مخصوص منصوبے کے سرکاری آغاز کا اعلان نہیں بلکہ موجودہ حکومتی مراعات اور نجی شعبے کے مواقع کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔