اقوام متحدہ: جنرل اسمبلی نے پاکستان کی قیادت میں پیش کی گئی ’’معاون ٹیکنالوجی تک رسائی‘‘ کی قرارداد اتفاقِ رائے سے منظور کر لی ہے۔ 2 ستمبر 2026 کو 80ویں اجلاس کی 112ویں مکمل نشست میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے مسودہ A/80/L.110 پیش کیا، جس کے بعد اسمبلی کے صدر نے رکن ممالک سے فیصلہ لیا اور کسی اعتراض کے بغیر قرارداد منظور ہو گئی۔

یہ جنرل اسمبلی کی پہلی قرارداد ہے جو خاص طور پر معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کے موضوع پر مرکوز ہے۔ اس اصطلاح میں وہیل چیئر، مصنوعی اعضا، سماعت کے آلات، چشمے، مواصلاتی آلات، اسکرین ریڈر اور دیگر ڈیجیٹل حل کے ساتھ ان تک رسائی کے لیے درکار خدمات اور نظام شامل ہیں۔ ان مصنوعات سے معذور افراد، عمر رسیدہ شہری اور بعض طبی حالات رکھنے والے لوگ تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی میں زیادہ خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اسمبلی کو بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً ڈھائی ارب افراد کو ایک یا زیادہ معاون مصنوعات، آلات یا خدمات کی ضرورت ہے، مگر بڑی تعداد قیمت، محدود دستیابی، ناکافی بنیادی ڈھانچے، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور غیر مساوی تکنیکی رسائی کے باعث ان سے محروم ہے۔ قرارداد اس فرق کو کم کرنے کے لیے معیار، استطاعت اور پائیدار فراہمی کو قومی پالیسیوں کا حصہ بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔

منظور شدہ متن رکن ممالک سے قومی حکمتِ عملی بنانے، ترجیحی معاون مصنوعات کی فہرستیں مرتب کرنے، تحقیق و اختراع کو فروغ دینے، بہتر اعداد و شمار جمع کرنے اور مناسب خریداری کے نظام قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس میں صحت، تعلیم، محنت اور سماجی تحفظ کے نظاموں کے درمیان رابطے اور پالیسی سازی میں معاون ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے افراد کی مؤثر شرکت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

قرارداد میں مسلح تنازعات، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات کی تیاری اور امدادی کارروائیوں میں معاون آلات اور متعلقہ خدمات کو شامل کرنے کی ضرورت نمایاں کی گئی۔ ترقی پذیر اور محدود وسائل رکھنے والے ممالک کے لیے بین الاقوامی تعاون، مالی معاونت اور تکنیکی مدد بڑھانے کی حوصلہ افزائی بھی متن کا حصہ ہے۔ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند معاہدہ نہیں، بلکہ رکن ممالک کے لیے متفقہ سیاسی اور پالیسی سمت متعین کرتی ہے؛ عملی اثر کا انحصار قومی بجٹ، قوانین اور نفاذ پر ہو گا۔

پاکستان کے اقوام متحدہ مشن کے مطابق قرارداد کا مسودہ قونصلر سائمہ سلیم نے تیار کیا اور بین الحکومتی مذاکرات کی قیادت کی۔ وہ پاکستان کی پہلی بصارت سے محروم کیریئر سفارت کار اور خود معاون ٹیکنالوجی کی صارف ہیں۔ عاصم افتخار احمد نے اسمبلی میں ان کی کاوش اور شریک ممالک کے تعمیری مذاکرات کو اتفاقِ رائے تک پہنچنے میں اہم قرار دیا۔

پاکستان نے اس سے پہلے 2018 میں عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی میں معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کی قرارداد 71.8 شروع کرنے میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ نئی جنرل اسمبلی قرارداد اس موضوع کو صرف صحت تک محدود رکھنے کے بجائے تعلیم، روزگار، سماجی تحفظ، انسانی امداد اور پائیدار ترقی سے جوڑتی ہے۔

یورپی یونین نے اتفاقِ رائے میں شامل ہوتے ہوئے عمل کی سہولت کاری پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، تاہم اجلاس کے بعد وضاحتی بیان میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیورسل ہیلتھ کوریج سے متعلق زبان کمزور ہونے پر افسوس بھی ظاہر کیا۔ اس سے واضح ہے کہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی، مگر متن کے بعض حصوں پر رکن ممالک کے پالیسی تحفظات برقرار رہے۔