نیویارک/اسلام آباد: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز پر 18 ستمبر کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق سلامتی کونسل کے صدر اور فرانس کے نمائندے جیروم بونافون کی جانب سے جاری بیان میں رکن ممالک نے متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کی حکومت سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔

کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دو حصوں پر مشتمل حملے میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ شہری شامل تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے جمعے کی نماز کے وقت مسجد کے قریب بارود سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑانے کے بعد کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی اور کلیئرنس آپریشن میں آٹھ حملہ آور مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔

سلامتی کونسل کے بیان میں دہشت گردی کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حملے کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی معاونین اور اسپانسرز کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ کونسل نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ ذمہ داریوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ تعاون کریں۔ بیان میں یہ اصول بھی دہرایا گیا کہ دہشت گردی کے اقدامات ان کے محرک، مقام یا ذمہ دار فریق سے قطع نظر مجرمانہ اور ناقابل جواز ہیں۔

ڈان کے مطابق حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں اتحاد المجاہدین نامی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دعوے کو ذمہ داری کی حتمی عدالتی تعیین نہیں سمجھا جا سکتا؛ پاکستانی حکام کی تحقیقات اور شواہد ہی کسی فرد یا نیٹ ورک کے کردار کے بارے میں قانونی نتیجے کی بنیاد بنیں گے۔

خیبر پختونخوا پولیس نے حملے کے اگلے روز بتایا تھا کہ کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سکیورٹی فورسز نے عمارتوں کے اہم حصے کلیئر کر دیے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بھی واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے اور سرحد پار عسکریت پسندی کے بارے میں بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔

پاکستانی حکومت نے پیر کو کہا تھا کہ حالیہ حملوں کے جواب میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گرد اہداف کے خلاف فضائی کارروائی کی گئی جس میں 28 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے۔ یہ پاکستانی حکومت کا بیان ہے اور اس مخصوص تعداد کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں۔ سلامتی کونسل کا تازہ بیان بنیادی طور پر کوہاٹ حملے کی مذمت، متاثرین سے اظہار یکجہتی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ داروں کو قانون کے سامنے لانے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔