کراچی: چین کی جانب سے عالمی منڈی میں یوریا کی سپلائی دوبارہ بڑھنے کے بعد بین الاقوامی قیمتیں تقریباً 900 ڈالر فی ٹن کی بلند سطح سے کم ہو کر 450 ڈالر فی ٹن کے قریب آگئی ہیں۔ عالمی قیمت میں یہ نمایاں کمی پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے اہم ہے کیونکہ مقامی طلب اور پیداوار کے درمیان فرق پیدا ہونے پر حکومت یا نجی شعبے کو درآمدی یوریا کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یوریا پاکستان کی اہم نائٹروجن کھاد ہے اور گندم، چاول، کپاس، مکئی اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ کھاد کی قیمت میں اضافہ کسانوں کی فی ایکڑ پیداواری لاگت بڑھاتا ہے، جبکہ بروقت دستیابی نہ ہونے کی صورت میں فصل کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے عالمی یوریا قیمت اور مقامی گیس کی فراہمی دونوں زرعی پالیسی کے لیے اہم عوامل ہیں۔
چین عالمی کھاد منڈی میں ایک بڑا پیداواری اور برآمدی کردار رکھتا ہے۔ جب چینی برآمدی سپلائی محدود ہوتی ہے تو دوسرے بڑے پیداواری مراکز پر طلب بڑھ سکتی ہے اور قیمتوں میں تیزی آسکتی ہے۔ سپلائی بحال ہونے سے عالمی خریداروں کے لیے متبادل مقدار بڑھتی ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔ تاہم 450 ڈالر کے قریب عالمی نرخ لازماً اسی تناسب سے پاکستانی خوردہ قیمت میں فوری کمی کی ضمانت نہیں دیتے۔
پاکستان میں یوریا کی مقامی قیمت پر قدرتی گیس کی فراہمی اور نرخ، کارخانے کی پیداواری لاگت، ٹیکس، نقل و حمل، ڈیلر مارجن اور مارکیٹ میں دستیابی اثرانداز ہوتے ہیں۔ درآمدی یوریا کی صورت میں روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ، سمندری فریٹ اور بندرگاہی اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی قیمت میں کمی کا مکمل فائدہ کسان تک پہنچنے کی رفتار ان عوامل پر منحصر ہوگی۔
گندم کی بوائی کے موسم میں کھاد کی دستیابی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کم عالمی قیمت پر ضرورت کے مطابق درآمد ممکن ہو اور مقامی کارخانے بھی مستحکم پیداوار جاری رکھیں تو رسد کا دباؤ کم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ذخیرہ اندوزی اور غیر معمولی قیمت اضافے کے خطرات بھی محدود ہوسکتے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں مقامی یوریا کے نرخ، ذخائر اور درآمدی فیصلے واضح کریں گے کہ عالمی قیمتوں میں اس کمی کا پاکستانی کسانوں کو کس حد تک عملی فائدہ پہنچتا ہے۔
