اسلام آباد: پاکستان میں امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری کے مواقع، علاقائی سلامتی اور امن و استحکام کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ملاقات بدھ کو اسلام آباد میں ہوئی اور دونوں فریقوں نے باہمی رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں اور سرمایہ کاری کے تعاون میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے خطے کی تازہ صورتحال اور امن و استحکام برقرار رکھنے سے متعلق جاری کوششوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ اے پی پی کے مطابق علاقائی سکیورٹی اور امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
امریکی سفیر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں اس کے کردار کو سراہا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے اس کی قربانیاں نمایاں ہیں۔ یہ بیانات ملاقات کے سرکاری خلاصے میں شامل ہیں اور ان میں کسی نئے باقاعدہ سکیورٹی معاہدے یا مخصوص سرمایہ کاری منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ رابطوں میں تجارت، سرمایہ کاری، سلامتی اور علاقائی امور مستقل موضوعات رہے ہیں۔ اس ملاقات میں بھی اقتصادی تعاون اور سکیورٹی امور کو ایک ساتھ زیر بحث لایا گیا، تاہم سرمایہ کاری کے حجم، شعبوں یا کسی ممکنہ معاہدے کی مالی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی تعاون کے کسی نئے عملی فریم ورک کا اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔
دونوں فریقوں نے باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینا بتایا گیا۔ سفارتی ملاقاتوں میں ایسے رابطے عموماً پالیسی سطح کے مکالمے، متعلقہ وزارتوں اور سفارت خانے کے درمیان رابطہ کاری اور ممکنہ اقتصادی یا سکیورٹی تعاون کی راہیں تلاش کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کا نتیجہ رابطے جاری رکھنے اور تعاون بڑھانے کے عزم کی صورت میں سامنے آیا۔ کسی نئے معاہدے، سرمایہ کاری پیکیج یا مشترکہ آپریشن کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے ملاقات کو جاری دوطرفہ سفارتی رابطے کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
