واشنگٹن: امریکا نے تین چینی جینومکس کمپنیوں سے درآمدات روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جن پر امریکی حکام نے سنکیانگ میں اویغور اور دیگر اقلیتی گروہوں کی مبینہ جبری مشقت سے متعلق سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ BGI Genomics، MGI Tech اور Shenzhen BGI Technology کو Uyghur Forced Labor Prevention Act کے تحت قائم entity list میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق فہرست میں شامل اداروں سے آنے والی اشیا کو کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن امریکا میں داخل ہونے سے روکے گا، الا یہ کہ برآمد کنندہ قابل قبول ثبوت کے ذریعے یہ مفروضہ رد کر دے کہ مصنوعات جبری مشقت سے تیار ہوئی ہیں۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ BGI گروپ اور BGI Genomics خطے میں جینیاتی ٹیسٹنگ سے متعلق کام کرتے ہوئے سرکاری اداروں کے ساتھ ایسے پروگراموں میں شریک رہے جنہیں واشنگٹن جبری مشقت سے جوڑتا ہے، جبکہ MGI Tech پر متعلقہ آلات اور معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
یہ الزامات امریکی حکومت کا مؤقف ہیں اور انہیں کمپنیوں نے تسلیم نہیں کیا۔ MGI Tech نے کہا کہ دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور کمپنی کسی بھی شکل کی جبری مشقت کے لیے صفر برداشت کی پالیسی رکھتی ہے۔ BGI Group نے بھی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انسانی حقوق اور محنت کے اصولوں کا احترام کرتا ہے۔ کمپنیوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا میں ان کا کاروبار مجموعی سرگرمیوں کا محدود حصہ ہے۔
واشنگٹن اور انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں طویل عرصے سے چین پر سنکیانگ میں اویغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کے خلاف وسیع پیمانے پر حراست، جبری مشقت اور دیگر زیادتیوں کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اپنے اقدامات کو انسداد دہشت گردی، پیشہ ورانہ تربیت اور ترقیاتی پالیسیوں کے طور پر بیان کرتا ہے۔
نئی پابندی امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی، ڈیٹا اور انسانی حقوق سے متعلق بڑھتی کشیدگی کا حصہ ہے۔ عملی طور پر اس اقدام کا اثر ان کمپنیوں کی امریکی سپلائی چین اور ان درآمد کنندگان پر پڑے گا جو ان کی مصنوعات یا آلات استعمال کرتے ہیں، جبکہ کسی وسیع کاروباری اثر کا انحصار متبادل منڈیوں اور قانونی یا انتظامی چیلنجز پر ہوگا۔

