ہانگ کانگ: امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار مسابقت کے باوجود دونوں ممالک نے اے آئی سے پیدا ہونے والے بعض مشترکہ سلامتی خطرات پر رابطے کے امکانات پر بات چیت شروع کی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے نیویارک میں چینی نائب وزیراعظم ہی لی فنگ کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہا کہ فریقین نے اے آئی مکالمے اور ایسے واقعات کے لیے ایک ممکنہ نوٹیفکیشن میکنزم پر گفتگو کی جو قومی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی رواں ہفتے ملاقات متوقع ہے۔ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، جدید چپس، ماڈلز اور متعلقہ صنعتی صلاحیت میں عالمی برتری کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ سائبر حملوں، حیاتیاتی غلط استعمال، اہم بنیادی ڈھانچے پر اثرات اور انتہائی طاقتور اے آئی نظاموں کے کنٹرول سے متعلق خطرات پر تشویش بھی بڑھ رہی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور چینی حکام کے درمیان زیر بحث خیال ابھی کسی حتمی معاہدے کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ تجویز کا مقصد بظاہر ایسے اے آئی واقعات کے بارے میں بروقت اطلاع اور بحران کے دوران رابطے کا راستہ بنانا ہے جو غلط فہمی، حادثے یا قومی سلامتی کے بڑے مسئلے میں تبدیل ہو سکتے ہوں۔ اس نظام کی حدود، قانونی حیثیت، معلومات کے تبادلے کی نوعیت اور عمل درآمد کا طریقہ ابھی واضح نہیں کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی کمی اس ممکنہ تعاون کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔ واشنگٹن نے جدید سیمی کنڈکٹرز اور بعض حساس ٹیکنالوجیز پر برآمدی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ امریکی حلقے چینی کمپنیوں پر امریکی اے آئی ماڈلز سے صلاحیتیں اخذ کرنے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ چینی حکام ان الزامات کے بعض حصوں کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں اور خود امریکی اے آئی نظاموں کے ممکنہ سلامتی اور معلوماتی اثرات پر خدشات ظاہر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق محدود دائرے میں حادثاتی یا غیر ارادی اے آئی خطرات پر رابطہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہو سکتا ہے، لیکن اس سے وسیع ٹیکنالوجی رقابت ختم ہونے کی توقع نہیں۔ فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ اے آئی سلامتی کو صرف تجارتی یا تکنیکی مقابلے کے بجائے بحران رابطے کے موضوع کے طور پر بھی زیر بحث لایا جا رہا ہے۔

ٹرمپ اور شی کی متوقع ملاقات میں تجارت، جغرافیائی سیاست اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد معاملات زیر غور آ سکتے ہیں۔ کسی باضابطہ اے آئی سیفٹی معاہدے کا اعلان ابھی نہیں ہوا، اس لیے موجودہ پیش رفت کو ابتدائی سفارتی گفتگو اور ممکنہ میکنزم کی تجویز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔