امریکا کی ریاست الاسکا میں ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا وہ مقدمہ مسترد کر دیا ہے جس کے ذریعے ریاست کو بعض حالات میں سینیٹ انتخاب کے نتائج کی تصدیق سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ رائٹرز کے مطابق اینکریج میں امریکی ڈسٹرکٹ جج شیرون گلیسن کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور ریاستی حکام کے درمیان انتخابات کی نگرانی اور اختیارات کی حدود پر بحث جاری ہے۔
مقدمے میں ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر ریپبلکن سینیٹر ڈین سلیوان سے ملتا جلتا نام رکھنے والے ایک دوسرے امیدوار کو ملنے والے ووٹ انتخابی نتیجے پر اثر انداز ہو سکتے ہوں تو ریاست کو نتائج کی تصدیق سے روکا جائے۔ عدالت نے یہ درخواست قبول نہیں کی۔ فیصلے کی مکمل قانونی تفصیلات اور ممکنہ اپیل کے امکانات الگ عدالتی مراحل میں واضح ہو سکتے ہیں۔
الاسکا کی سینیٹ نشست پر ڈیموکریٹک پارٹی کی سابق رکنِ کانگریس میری پیلٹولا سلیوان کو چیلنج کر رہی ہیں۔ یہ مقابلہ امریکی سینیٹ میں جماعتی توازن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ وسط مدتی انتخابات میں چند نشستوں کا فرق ایوان بالا کے کنٹرول پر اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکی آئینی نظام میں انتخابات بنیادی طور پر ریاستیں چلاتی ہیں، اگرچہ وفاقی قوانین اور عدالتیں شہری حقوق، انتخابی ضابطوں اور آئینی تنازعات میں کردار ادا کرتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق جج گلیسن کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انتخابی نگرانی میں زیادہ وفاقی کردار کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ایک اور قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف ریاستوں سے ووٹر رجسٹریشن ڈیٹا اور انتخابی نظام سے متعلق معلومات کے حصول پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت نگرانی عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ اس کے ناقدین، جن میں ڈیموکریٹ اور بعض ریپبلکن انتخابی حکام بھی شامل ہیں، ان اقدامات کو ریاستی اختیارات میں وفاقی مداخلت قرار دیتے ہیں۔
الاسکا کے مقدمے کا فیصلہ انتخابی عمل کی نگرانی سے متعلق وسیع تر قومی تنازعے کا حصہ ہے۔ عدالتی حکم نے فوری طور پر ریاست کے انتخابی انتظام اور نتائج کی تصدیق کے موجودہ طریقہ کار کو برقرار رکھا ہے، تاہم امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج اور ان سے متعلق ممکنہ قانونی چیلنجز آنے والے دنوں میں سیاسی توجہ کا مرکز رہیں گے۔

