واشنگٹن: پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا نے اسلام آباد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کشمیر کے تنازع سے متعلق اس کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور واشنگٹن بدستور اس معاملے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب تنازع سمجھتا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی جب بھارت میں امریکی سفیر سریجیو گور کے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران دیے گئے ایک بیان پر پاکستان نے تشویش ظاہر کی تھی۔
ذرائع کے مطابق امریکی سفیر نے 19 اگست کو سرینگر کے دورے میں جموں و کشمیر کو بھارت کا ایک اہم حصہ قرار دیا تھا۔ اس بیان کے بعد اسلام آباد نے واشنگٹن سے یہ جاننے کے لیے وضاحت طلب کی کہ آیا یہ الفاظ امریکی پالیسی میں کسی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستانی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے جواب میں واضح کیا کہ ان کے موقف میں تبدیلی نہیں ہوئی اور واشنگٹن کشمیر کو ایسا تنازع سمجھتا ہے جس کا حل پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونا چاہیے۔
پاکستان نے سفیر کے بیان پر پہلے ہی امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ پاکستانی مؤقف یہ رہا ہے کہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کے فریم ورک اور متعلقہ سلامتی کونسل قراردادوں سے جڑا ہوا ہے، جبکہ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس مسئلے پر طویل عرصے سے اختلاف موجود ہے۔
واشنگٹن میں ایک میڈیا گفتگو کے دوران پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھی پاکستانی مؤقف دہرایا۔ رانا قاسم نون نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے کشمیر تنازع کا پرامن حل ضروری ہے، جبکہ سفیر رضوان سعید شیخ نے معاملے کو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جوڑا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفارتی ذرائع نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں کشمیر تنازع کے حل میں مدد کی پیشکش کا بھی حوالہ دیا اور اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ واشنگٹن اس معاملے کو حل طلب سمجھتا ہے۔ تاہم کسی نئی ثالثی کے باضابطہ عمل یا پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری مذاکرات کے بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
امریکی سفیر کے سرینگر دورے کے دوران سفری ہدایات پر نظرثانی کا ذکر بھی کیا گیا تھا، جسے پاکستان نے وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا۔ موجودہ امریکی وضاحت سفارتی سطح پر پالیسی کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، مگر کشمیر کے بنیادی تنازع پر پاکستان اور بھارت کے مؤقف بدستور مختلف ہیں۔
