اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں واپڈا سیکیورٹی فورس بل 2026 کے تحت مجوزہ فورس کو دیے جانے والے گرفتاری کے اختیارات پر ارکانِ پارلیمان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ زیرِ غور مسودے میں واپڈا کے کسی منصوبے یا تنصیب کے گرد ایک کلومیٹر کے دائرے میں مشتبہ دراندازی یا متعلقہ خلاف ورزی کی صورت میں اہلکاروں کو کسی شخص کو حراست میں لینے کا اختیار دینے کی تجویز شامل ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان جاوید علی شاہ اور صبا تالپور نے بالخصوص فورس کے نام اور اس کے دائرۂ اختیار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ان احکامات کا حوالہ دیا جن میں نجی سیکیورٹی اداروں کے لیے ”فورس“ کی اصطلاح کے استعمال پر قدغن کا ذکر کیا گیا تھا۔ ارکان کا بنیادی خدشہ یہ تھا کہ ایک نئی مسلح یا نیم مسلح ساخت کو وسیع جغرافیائی حدود میں حراست کا اختیار دینے سے شہری آزادیوں، پولیس کے قانونی کردار اور جواب دہی کے طریقۂ کار سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کمیٹی کو بتایا کہ مسودے کی زبان صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ گرفتاری کا اختیار عام نوعیت کا نہیں ہوگا بلکہ صرف منصوبے یا تنصیب کے اندر اور اردگرد غیر مجاز داخلے جیسے معاملات تک محدود رکھا جائے گا۔ انہوں نے دلیل دی کہ بڑے آبی اور بجلی کے منصوبوں کی حفاظت کے لیے مخصوص انتظام ضروری ہے اور مجوزہ بندوبست کو ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس کے اختیار سے مماثل تصور کیا گیا ہے۔
وزارتِ قانون کی قانونی ٹیم نے کمیٹی کے سامنے وضاحت کی کہ مجوزہ قانون کے تحت ہونے والی کسی بھی حراست پر ضابطۂ فوجداری کا اطلاق ہوگا۔ حکام کے مطابق واپڈا سیکیورٹی اہلکار کسی شخص کو مستقل طور پر اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکیں گے، بلکہ حراست میں لیے گئے فرد کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کرنا ہوگا۔ قانونی ٹیم نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ سپریم کورٹ کی سابق پابندی نجی سیکیورٹی ایجنسیوں سے متعلق تھی، ریاستی قانون کے تحت قائم ہونے والے ادارے سے نہیں۔
الگ سیکیورٹی فورس قائم کرنے کی تجویز کا پس منظر واپڈا کے اہم منصوبوں، خصوصاً داسو پن بجلی منصوبے، پر ہونے والے حملوں سے جڑا ہے۔ جولائی 2021 اور مارچ 2024 میں انجینئروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے والے واقعات میں چینی اور پاکستانی شہری جان سے گئے تھے۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صوبائی اور سی پیک سیکیورٹی انتظامات کی اپنی ذمہ داریاں اور حدود ہیں، جس کے باعث مستقل ادارہ جاتی تحفظ کی ضرورت محسوس کی گئی۔
تاہم کمیٹی میں ہونے والی بحث سے واضح ہے کہ منصوبوں کی حفاظت اور شہریوں کے قانونی حقوق کے درمیان توازن مسودے کی آئندہ جانچ کا مرکزی نکتہ رہے گا۔ بل ابھی قانون نہیں بنا اور مجوزہ اختیارات کی حتمی شکل پارلیمانی غور، ممکنہ ترامیم اور منظوری کے عمل سے مشروط ہوگی۔




