اسلام آباد: پاکستان میں حساس قیمت اشاریے (SPI) سے ناپی جانے والی ہفتہ وار مہنگائی 5 نومبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 0.29 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ ہفتے میں ایس پی آئی 374.61 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو پچھلے ہفتے 373.51 پوائنٹس تھا۔ سالانہ بنیاد پر حساس قیمت اشاریے میں 12.31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایس پی آئی 2015-16 کو بنیادی سال مان کر ملک کے 17 شہری مراکز میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے کم خرچ والے گروپ، یعنی ماہانہ 17,732 روپے تک خرچ کرنے والے گھرانوں، کے اشاریے میں 0.86 فیصد اضافہ ہوا۔ دیگر اخراجاتی گروپوں میں بھی ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم 44,175 روپے سے زیادہ خرچ والے گروپ میں اضافہ نسبتاً کم، 0.10 فیصد رہا۔
زیر جائزہ 51 اشیا میں سے 21 کی قیمتوں میں اضافہ، 10 میں کمی اور 20 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہفتہ وار بنیاد پر سب سے نمایاں اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں 54.18 فیصد رہا۔ ایل پی جی 3.72 فیصد، آلو 2.07 فیصد، انڈے 1.17 فیصد، لہسن 1.06 فیصد اور جلانے کی لکڑی 1.01 فیصد مہنگی ہوئی۔ تازہ دودھ، دہی، سادہ روٹی اور بعض دیگر روزمرہ اشیا میں بھی محدود اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری طرف پٹرول کی قیمت ہفتہ وار 4.20 فیصد اور ڈیزل 2.97 فیصد کم ہوا۔ چنے کی دال، کیلے، پیاز، پاؤڈر دودھ، مرغی، چینی، گندم کا آٹا اور مونگ کی دال بھی ان اشیا میں شامل رہیں جن کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ اس طرح ایندھن کی بعض قیمتوں میں کمی کے باوجود خوراک کی چند اہم اشیا، خصوصاً ٹماٹر، نے مجموعی ہفتہ وار اشاریے کو اوپر دھکیلا۔
سالانہ موازنے میں ایل پی جی کی قیمت 114.88 فیصد، ٹماٹر 78.89 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی 52.38 فیصد، ڈیزل 39.27 فیصد، پٹرول 36.34 فیصد اور گندم کا آٹا 33.95 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوا۔ اس کے برعکس آلو، انڈے، چینی، نمک، گڑ اور بعض دالوں کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہیں۔ ایس پی آئی قلیل مدت میں ضروری اشیا کی قیمتوں کی سمت دکھاتا ہے اور اسے عمومی صارف قیمت اشاریے سے الگ پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔
