اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول 9 روپے 41 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 56 پیسے فی لیٹر سستا کر دیا ہے۔ عرب نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا ہے اور یہ حکومت کے حالیہ یومیہ قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومتی اعلان کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 352 روپے 59 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 382 روپے 25 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ پاکستان میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات پر ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر پڑتا ہے، اس لیے پٹرولیم نرخوں میں تبدیلی مہنگائی اور کاروباری لاگت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے خلیجی جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے یومیہ بنیاد پر نظرثانی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے قبل قیمتیں نسبتاً طویل وقفوں کے بعد تبدیل ہوتی تھیں۔ نئے نظام کا مقصد عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کو مقامی نرخوں میں زیادہ جلد منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں عالمی خام تیل کی قیمتیں تنازع کے ابتدائی مرحلے میں تیزی سے اوپر گئی تھیں، جس کے باعث پاکستان میں بھی ایندھن مہنگا ہوا۔ تازہ کمی اسی عالمی رجحان میں جزوی واپسی کے بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم درآمدی توانائی پر پاکستان کے انحصار کی وجہ سے بین الاقوامی قیمتوں اور روپے کی قدر میں تبدیلی مقامی صارفین کے لیے ایندھن کی قیمت پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔
پٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور چھوٹی تجارتی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور مال برداری کے لیے اہم ایندھن ہے۔ اسی لیے ڈیزل کی قیمت میں کمی سامان کی نقل و حمل اور زرعی پیداواری لاگت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، اگرچہ اس کا مکمل اثر دیگر اخراجات اور مارکیٹ کے حالات پر منحصر ہوگا۔
نئی قیمتیں صارفین کو حالیہ اضافوں کے بعد کچھ ریلیف فراہم کرتی ہیں، لیکن عالمی تیل منڈی کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث آئندہ قیمتوں کا رخ بین الاقوامی نرخوں اور حکومتی قیمت سازی کے فیصلوں سے منسلک رہے گا۔
