اسلام آباد: ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی کا زلزلہ پیما تحقیقی جہاز 17 سے 20 نومبر 2026 کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے، جہاں سے پاکستان کے سمندری علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کی نئی مہم شروع کی جائے گی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے جمعہ کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت انتظامات کے جائزہ اجلاس کے بعد اس شیڈول کا اعلان کیا۔
اجلاس میں ترک کمپنی کے پراجیکٹ منیجر، پیٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام، ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم کنسیشنز اور او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز کے سربراہان شریک ہوئے۔ وزارت خارجہ، وزارت بحری امور، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل ہائیڈروگرافک آفس اور بندرگاہوں و جہاز رانی کے حکام نے بھی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
پیٹرولیم ڈویژن نے جہاز کی آمد کو تقریباً دو دہائیوں بعد پاکستان کی آف شور تلاش کی کوششوں کے احیا میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ پاکستان نے جنوری 2025 میں 18 سال کے وقفے کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ شروع کیا تھا، جس میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی دائرہ اختیار کے قریب انڈس اور مکران بیسن کے 40 بلاکس کے لیے تلاش کے لائسنس پیش کیے گئے تھے۔
ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی نے پاکستانی سرکاری توانائی کمپنیوں کے ساتھ تین بلاکس میں شراکت داری کی ہے۔ کمپنی بحیرہ عرب میں ایسٹرن آف شور انڈس-سی بلاک میں 25 فیصد حصہ اور آپریٹرشپ رکھتی ہے۔ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کا حصہ 35 فیصد، جبکہ او جی ڈی سی ایل اور ماری انرجیز کے حصص 20، 20 فیصد ہیں۔ پی پی ایل کے سابقہ سرویز کے مطابق اس بلاک میں گیس کے ممکنہ وسائل کا تخمینہ 1.5 سے 2 ٹریلین مکعب فٹ بتایا گیا ہے، تاہم یہ تخمینہ دریافت شدہ ذخیرے یا تجارتی پیداوار کی ضمانت نہیں ہے۔
اجلاس میں جہاز کی آمد سے متعلق آپریشنل، لاجسٹک، بحری، سکیورٹی اور بین الادارہ انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ جہاز کی آمد اور سروے سرگرمیوں کا آغاز بروقت ہو سکے۔ وزیر پیٹرولیم نے ترک وفد کو حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی اور اس منصوبے کو پاکستان اور ترکی کے توانائی تعاون میں نئی پیش رفت قرار دیا۔
پاکستان کا تقریباً تین لاکھ مربع کلومیٹر آف شور زون عمان، متحدہ عرب امارات اور ایران کے توانائی سے مالامال خطے کے قریب واقع ہے، مگر آزادی کے بعد اس علاقے میں محدود تعداد میں کنویں کھودے گئے ہیں۔ اس لیے نئی زلزلہ پیما مہم کا بنیادی مقصد زیر سمندر ارضیاتی ساخت کے بارے میں بہتر ڈیٹا حاصل کرنا اور مستقبل کی کھدائی کے لیے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کرنا ہوگا۔ کامیاب تجارتی دریافت کا فیصلہ بعد کے سرویز اور ڈرلنگ کے نتائج سے ہی ہو سکے گا۔
