اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس دائرہ وسیع کرے، نظام کو سادہ اور قابل پیش گوئی بنائے اور ایسی ساختی اصلاحات آگے بڑھائے جو پائیدار اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور انسانی ترقی کے لیے وسائل پیدا کر سکیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر ماہر بنجی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو وسیع تر، آسان، منصفانہ اور زیادہ قابل پیش گوئی ٹیکس نظام درکار ہے۔ ان کے مطابق اس سے انسانی سرمائے، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو پاکستان کی ممکنہ مجموعی قومی پیداوار اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔
ڈاکٹر بنجی نے حالیہ عالمی اور داخلی چیلنجز کے دوران معاشی استحکام برقرار رکھنے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ استحکام کو مستقل اور زیادہ بلند شرح نمو میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحات کا دائرہ مزید گہرا اور وسیع کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کا یہ مؤقف پاکستان کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ حکومت کو محصولات بڑھانے کے ساتھ کاروباری سرگرمی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کو بھی سہارا دینا ہے۔
ٹیکس اصلاحات پاکستان کی معاشی پالیسی میں طویل عرصے سے مرکزی مسئلہ رہی ہیں۔ محدود ٹیکس بیس، مختلف شعبوں میں غیر مساوی بوجھ اور پیچیدہ طریقہ کار سے متعلق شکایات حکومت اور کاروباری حلقوں دونوں کی بحث کا حصہ رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کے نمائندے کی گفتگو میں زور صرف زیادہ محصولات جمع کرنے پر نہیں بلکہ ایسے نظام پر تھا جو نسبتاً منصفانہ اور قابل پیش گوئی ہو اور ریاست کو ترقیاتی ترجیحات کے لیے مستقل وسائل فراہم کر سکے۔
یہ بیان کسی نئی قرض قسط یا نئے مالیاتی معاہدے کا اعلان نہیں، بلکہ اصلاحات کی سمت کے بارے میں آئی ایم ایف کے پاکستان نمائندے کی پالیسی گفتگو ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر کسی نئے ٹیکس اقدام، شرح میں تبدیلی یا مخصوص حکومتی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ عملی تبدیلیوں کے لیے وفاقی حکومت، پارلیمان اور متعلقہ اداروں کے الگ فیصلے اور قانونی یا انتظامی اقدامات درکار ہوں گے۔
پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ مالی استحکام کے اہداف اور ترقی کی ضرورت میں توازن قائم کیا جائے۔ ٹیکس دائرہ بڑھانے سے ریاستی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے اقدامات کن شعبوں پر لاگو ہوتے ہیں، نفاذ کتنا مؤثر رہتا ہے اور کاروباری لاگت و سرمایہ کاری پر ان کا کیا اثر پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق گہری اصلاحات کا مقصد اسی استحکام کو زیادہ پائیدار نمو کی بنیاد بنانا ہونا چاہیے۔
