اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، بالخصوص برآمدی ایس ایم ایز، کے لیے طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی آسان بنانے کی غرض سے 80 فیصد برآمد کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی سہولت کاری سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ کسی بینک کو ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ اسکیم کے نفاذ سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی استعداد، مہارت اور کاروباری ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولتیں یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 17 ہزار برآمدی ایس ایم ایز کام کر رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے یکم نومبر کو ایس ایم ای شعبے کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کا پورٹل شروع کیا تھا، جس پر حکام کے مطابق دس ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایس ایم ای شعبے اور نئے برآمد کنندگان کے لیے ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ رواں سال طویل مدتی فنانسنگ سہولت کے لیے 350 ارب روپے مختص ہیں۔

وزیراعظم نے برآمد کنندگان کے لیے accreditation standards، لیبارٹری سہولتوں اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں جدید لیبارٹریوں کے قیام اور ایسی خدمات کی فراہمی پر زور دیا گیا جن سے برآمد کنندگان کو جانچ اور سرٹیفکیشن کے مراحل میں آسانی ہو۔ حکام نے حالیہ مشاورتی اجلاسوں میں ایس ایم ای نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے ٹیکس، ریفنڈز، صوبائی محصولات، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ کے مسائل پر بھی بریفنگ دی۔

80 فیصد برآمدی شرط ختم کرنے کی ہدایت کا مقصد طویل مدتی قرض کی سہولت کو زیادہ کاروباروں کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔ تاہم اس ہدایت کے عملی نفاذ، اہلیت کے حتمی قواعد اور بینکوں کے طریقہ کار کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ہونے والے ضوابط اور عمل درآمدی اقدامات سے واضح ہوں گی۔ اسے تمام ایس ایم ایز کے لیے بلاشرط قرض کی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ بینکاری ضوابط اور قرض کی جانچ کے دیگر تقاضے بدستور لاگو رہ سکتے ہیں۔

حکومت برآمدات بڑھانے اور افریقی منڈیوں تک پاکستانی کاروباروں کی رسائی میں اضافے کے اقدامات بھی کر رہی ہے۔ ایس ایم ایز کو پاکستان کی روزگار اور کاروباری سرگرمی میں اہم حصہ دار سمجھا جاتا ہے، اس لیے فنانسنگ تک رسائی میں بہتری کو برآمدی صلاحیت بڑھانے کی حکمت عملی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، اسٹیٹ بینک کے گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔