ویانا/پیرس: امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں ایک قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے ذریعے ایران کے جوہری تحفظات اور معائنے سے متعلق معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کیا جائے گا۔ سفارت کاروں اور رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق 35 رکنی بورڈ میں ووٹنگ اگلے ہفتے متوقع ہے، تاہم مسودہ ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں کرایا گیا اور اس کی حتمی عبارت پر مذاکرات جاری ہیں۔
مجوزہ قرارداد منظور ہونے کی صورت میں تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار آئی اے ای اے بورڈ ایران کو اس نوعیت کے معاملے پر سلامتی کونسل کے سامنے رپورٹ کرے گا۔ مسودے میں آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ نئی اور پہلے منظور شدہ قراردادیں ادارے کے تمام رکن ممالک، سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ارسال کریں۔ اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سیف گارڈز معاہدے سے متعلق عدم تعمیل دور کرنے کے لیے نگران ادارے کے ضروری سمجھے گئے اقدامات کرے، تاکہ ایران کے اعلانات کی درستگی اور مکمل ہونے کے بارے میں مطلوبہ یقین دہانی دی جا سکے۔
یہ تازہ سفارتی اقدام 12 جون 2025 کی اس بورڈ قرارداد کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایران کو غیر اعلان شدہ مقامات پر یورینیم کے آثار کی تحقیقات میں مکمل تعاون نہ کرنے پر جوہری عدم پھیلاؤ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس کے اگلے روز اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے شروع کیے اور بعد میں امریکا بھی کارروائی میں شامل ہوا۔ متعدد افزودگی تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔ یہ عسکری واقعات اپنی جگہ الگ ہیں؛ موجودہ پیش رفت آئی اے ای اے بورڈ میں زیرِ غور سفارتی اور حفاظتی نگرانی کے عمل سے متعلق ہے۔
آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے حملوں سے متاثر مقامات پر نگران ادارے کے معائنہ کاروں کو واپس جانے اور افزودہ یورینیم کے باقی ذخیرے کی مکمل تصدیق کی اجازت نہیں دی۔ بورڈ گزشتہ ایک سال میں دو قراردادوں کے ذریعے ایران سے ذخائر کا اعلان اور مکمل رسائی دینے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ ایران کی جانب سے رسائی اور معلومات کی سطح پر تنازع برقرار ہے، اس لیے موجودہ ذخیرے کی جگہ، مقدار اور حالت کا آزادانہ اور مکمل بین الاقوامی جائزہ دستیاب نہیں۔
حملوں سے پہلے آئی اے ای اے نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا۔ ادارے کے تکنیکی پیمانے کے مطابق اسے مزید افزودہ کیا جائے تو نظری طور پر تقریباً دس جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار مواد کے برابر ہو سکتا ہے۔ یہ حساب موجود جوہری ہتھیاروں کی تصدیق نہیں، نہ ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران نے ہتھیار تیار کیے ہیں؛ یہ صرف مزید افزودگی کی فرضی صورت میں مواد کی ممکنہ مقدار کا تکنیکی اندازہ ہے۔ ایران مسلسل کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن ہے اور اسے پُرامن جوہری ٹیکنالوجی، بشمول مقررہ شرائط کے تحت افزودگی، استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، مگر اس کے ساتھ آئی اے ای اے سیف گارڈز اور تصدیقی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ معائنے اور ذخیرے کی تصدیق میں تعطل نے اعتماد کا بحران بڑھایا ہے۔ ایران ماضی میں اپنے خلاف بورڈ قراردادوں کے جواب میں جوہری سرگرمی بڑھانے یا تعاون محدود کرنے کے اقدامات کر چکا ہے، تاہم حملوں کے بعد اس کے عملی امکانات کے بارے میں صورتِ حال غیر واضح ہے۔
سفارت کاروں کا خیال ہے کہ چاروں ممالک کی پیش کردہ گزشتہ ایرانی قراردادوں کی طرح یہ مسودہ بھی بورڈ میں منظور ہو سکتا ہے، مگر یہ پیشگی نتیجہ نہیں۔ سلامتی کونسل میں کسی پابندی یا دوسرے عملی اقدام کا فیصلہ الگ عمل ہوگا، جہاں روس اور چین مستقل ارکان اور ویٹو اختیار رکھتے ہیں۔ اس لیے بورڈ کی ممکنہ منظوری کو خودکار طور پر سلامتی کونسل کی سزا، نئی پابندی یا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگلے قابلِ تصدیق مراحل مسودے کی باضابطہ پیشی، حتمی متن، بورڈ کی بحث اور ریکارڈ شدہ ووٹ ہوں گے۔




