کیف/جنیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ یوکرین میں گزشتہ تین ماہ کے دوران اس کے زیرِ استعمال تین انسانی امدادی گودام فضائی حملوں میں تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں۔ تازہ واقعہ 3 ستمبر کی صبح کیف ریجن میں پیش آیا، جہاں طبی اور انسانی امدادی سامان رکھنے والا ادارے کا ایک مرکزی گودام فضائی حملے میں تباہ ہو گیا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید دھوئیں اور حفاظتی خدشات کے باعث مقام تک رسائی محدود ہے، اس لیے سامان کے نقصان کی قطعی مقدار ابھی معلوم نہیں اور ابتدائی جائزہ جاری ہے۔
ادارے نے تصدیق کی کہ تازہ حملے میں ڈبلیو ایچ او کا کوئی اہلکار متاثر نہیں ہوا۔ گودام میں فرنٹ لائن اور دشوار گزار علاقوں کے لیے ضروری طبی سامان رکھا گیا تھا، مگر دستیاب بیان میں اشیا کی مکمل فہرست یا مالی قدر جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر عمارت کی تباہی کی تصدیق اور ذخیرے کے ممکنہ نقصان کو الگ رکھنا ضروری ہے؛ سامان کے بارے میں حتمی عدد محفوظ رسائی اور انوینٹری جانچ کے بعد سامنے آئے گا۔
تازہ واقعے سے تقریباً دو ہفتے پہلے دنیپرو میں ڈبلیو ایچ او کے ایک انسانی امدادی گودام کو دوہرے حملے میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق وہاں تقریباً نصف طبی سامان اور آلات ضائع ہوئے جو فرنٹ لائن اور دور دراز علاقوں میں اندازاً 225,000 افراد کی مدد کے لیے مختص تھے۔ جولائی میں کیف شہر اور گرد و نواح پر بڑے پیمانے کی فضائی کارروائی کے دوران ڈبلیو ایچ او کے زیرِ استعمال ایک اور گودام کو نقصان پہنچا تھا۔ ادارے کی مجموعی سرخی تین گودام تباہ ہونے کا بیان کرتی ہے، جبکہ تفصیلی متن جولائی کے مقام کو ’نقصان زدہ‘ کہتا ہے؛ اسی لیے تازہ رپورٹ نے دونوں حالتوں کو واضح طور پر الگ رکھا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے ان واقعات کو یوکرین میں انسانی امدادی کارروائیوں پر حملوں کے وسیع رجحان کا حصہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے اعداد کے مطابق 2026 میں اب تک انسانی امدادی سامان رکھنے والے گوداموں پر کم از کم 20 حملے ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او نے ان میں صحت سے متعلق سامان رکھنے والے گوداموں پر 15 حملوں کی الگ تصدیق کی ہے۔ یہ ادارہ جاتی شمار حملوں سے متاثرہ گوداموں کا ہے؛ اسے ہلاک یا زخمی افراد کی تعداد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ڈبلیو ایچ او کے یوکرین نمائندے ڈاکٹر سلویو ڈومینتے کے مطابق طبی گودام پر حملے کا اثر صرف عمارت یا آلات کے نقصان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ضروری صحت خدمات میں تاخیر اور سامان کی فرنٹ لائن تک ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ ادارے کی ٹیموں کو ذخیرہ ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کرنے پر وقت اور وسائل لگانا پڑتے ہیں جو مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی فراہمی میں استعمال ہو سکتے تھے۔ یہ عملی رکاوٹ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں معمول کا صحت نظام جنگ کے باعث پہلے ہی دباؤ میں ہے۔
ادارے نے تازہ واقعات کے بعد متبادل گوداموں کی نشاندہی کر لی ہے اور یوکرینی وزارت صحت و شراکت داروں کے ساتھ سامان کی ترسیل جاری رکھنے کا کہا ہے۔ فوری ترجیح یہ طے کرنا ہے کہ کیف ریجن کے مقام پر کون سی اشیا تباہ ہوئیں اور شراکت داروں کی مدد سے انہیں کس طرح تبدیل کیا جائے۔ 2026 میں ڈبلیو ایچ او 300 سے زائد یوکرینی صحت سہولتوں، جن میں بنیادی مراکز، ہسپتال، لیبارٹریاں اور ٹرانزٹ مراکز شامل ہیں، کو آلات اور طبی سامان فراہم کر چکا ہے؛ ادارے کے مطابق اس معاونت کی رسائی تقریباً 30 لاکھ افراد تک رہی۔
ڈبلیو ایچ او کے 4 ستمبر کے بیان نے تازہ حملے کو فضائی حملہ کہا، مگر اس مخصوص اعلامیے میں ذمہ دار فریق کا نام متعین نہیں کیا۔ اسی بنا پر کسی جنگی فریق کو تازہ گودام تباہ کرنے کا حتمی ذمہ دار قرار دینا اس بیان کی حد سے آگے ہوگا۔ مستقبل کے قابلِ تصدیق مراحل میں مقام تک محفوظ رسائی، تباہ شدہ ذخیرے کی مکمل انوینٹری، متبادل سامان کی خرید و ترسیل اور کسی ممکنہ آزاد یا سرکاری تحقیقات کے نتائج شامل ہیں۔




