عالمی بینک نے سندھ حکومت کے لیے 150 ملین ڈالر مالیت کا سندھ پراپرٹی ریونیو انہانسمنٹ پروگرام منظور کیا ہے، جس کے تحت کراچی کی 25 مقامی کونسلوں میں شہری غیرمنقولہ جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی خدمات کی استعداد بڑھانے پر کام کیا جائے گا۔ عالمی بینک کے مطابق پروگرام سے ان کونسلوں میں رہنے والے تقریباً 35 لاکھ 80 ہزار افراد بنیادی طور پر مستفید ہوں گے۔
پروگرام کا مرکزی ہدف یہ ہے کہ مقامی حکومتیں صوبائی منتقلیوں پر غیرمعمولی انحصار کم کرتے ہوئے اپنی آمدن بڑھا سکیں۔ عالمی بینک کی پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار کے مطابق سندھ کی مقامی کونسلیں اس وقت اپنی آمدن کے 95 فیصد سے زیادہ کے لیے صوبائی منتقلیوں پر منحصر ہیں۔ پراپرٹی ٹیکس کی بہتر وصولی اور اسے مقامی سطح پر دوبارہ خرچ کرنے سے شہروں کو طویل مدتی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مالی گنجائش مل سکتی ہے۔
منصوبے کے تحت شہری غیرمنقولہ جائیداد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کا تقریباً 70 فیصد حصہ براہ راست شریک مقامی کونسلوں میں بلدیاتی انفراسٹرکچر اور خدمات پر دوبارہ خرچ کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس وصولی اور شہری سہولتوں کے درمیان ایک واضح تعلق قائم کرنا ہے تاکہ مقامی سطح پر حاصل ہونے والی آمدن سڑکوں، نکاسی، صفائی یا دوسری منظور شدہ شہری ضروریات کے لیے استعمال ہو سکے۔
عالمی بینک کے سینئر اربن ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ ڈیوسن موچاڈینیکا کے مطابق کراچی کے پراپرٹی بیس سے آمدن حاصل کرنے کی قابل ذکر گنجائش موجود ہے۔ پروگرام کے ذریعے سندھ میں مالی پائیداری مضبوط کرنے اور مقامی حکومتوں کو منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور خدمات کی فراہمی میں زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ منظوری خود بخود ٹیکس وصولی میں اضافہ یا بلدیاتی خدمات کی بہتری کی ضمانت نہیں دیتی۔ عملی نتائج کا انحصار جائیدادوں کے ریکارڈ، تشخیص، وصولی کے نظام، مقامی کونسلوں کی انتظامی صلاحیت اور حاصل شدہ رقم کے شفاف استعمال پر ہوگا۔ تاہم 150 ملین ڈالر کا پروگرام کراچی میں مقامی مالیات کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب شہر کی بلدیاتی ضروریات اور بنیادی ڈھانچے پر آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
