پاکستان نے یکم نومبر کو بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور، یعنی جی 24، کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ یہ گروپ ترقی پذیر ممالک کے درمیان بین الاقوامی مالیاتی اور اقتصادی امور پر مشترکہ مؤقف کو مربوط کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نئی ذمہ داری کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز مضبوط کرنے اور زیادہ منصفانہ، جواب دہ اور ترقی پر مرکوز عالمی مالیاتی نظام کے لیے کام کرے گا۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق پاکستان اپنی مدتِ صدارت میں تین بڑے شعبوں پر توجہ دے گا۔ پہلا ہدف عالمی اقتصادی پالیسی سازی میں ترقی کو مرکزی حیثیت دینا ہے، تاکہ معاشی استحکام سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار اور مشترکہ خوشحالی کے لیے بنیاد فراہم کرے۔ دوسرا مقصد ترقی پذیر ممالک کی عالمی مالیاتی اداروں میں نمائندگی اور فیصلہ سازی میں شرکت کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ تیسری ترجیح بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کو ترقیاتی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ترقی پذیر اور کم آمدنی والی معیشتوں کو مسلسل بحرانوں کے انتظام تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار ترقی کی طرف بڑھنے کے لیے مناسب پالیسی گنجائش اور مالی وسائل درکار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان سستی اور بروقت ترقیاتی مالی معاونت، پائیدار قرض حل، مضبوط عالمی مالیاتی حفاظتی نظام، موسمیاتی لچک اور سرکاری و نجی سرمایہ متحرک کرنے کے معاملات کو بھی آگے بڑھائے گا۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ جی 24 کی قیادت مشاورت، اتفاقِ رائے اور مشترکہ وکالت کے اصولوں پر ہوگی۔ پاکستان افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ رکھے گا تاکہ مشترکہ ترجیحات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی چیئرمین شپ کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ذمہ داری عالمی مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مالی معاونت اور ابھرتی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع کی وکالت میں پاکستان کے کردار کو تقویت دے گی۔ جی 24 سن 1971 میں قائم ہوا تھا اور اس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مالیاتی اور ترقیاتی معاملات پر ترقی پذیر ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
