پاکستان نے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور (جی 24) کی صدارت سنبھال لی ہے، جس کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ترقی پذیر ممالک کی مشترکہ آواز مضبوط بنانے اور عالمی مالیاتی نظام کو زیادہ منصفانہ، مؤثر اور ترقی دوست بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے نئی ذمہ داری کو پاکستان کے لیے ایک اہم موقع کے ساتھ ساتھ بڑی ذمہ داری قرار دیا۔

محمد اورنگزیب نے جی 24 کی صدارت کے لیے تین بنیادی ترجیحات بیان کیں۔ ان میں ترقی پر مبنی معاشی نمو، بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر معیشتوں کی زیادہ مؤثر نمائندگی اور عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات شامل ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں ترقیاتی مالیات کی کمی، موسمیاتی جھٹکوں اور عالمی معیشت میں بڑھتی تقسیم جیسے مسائل کے لیے مضبوط کثیرالجہتی تعاون ضروری ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جی 24 کے دیرینہ اصولوں، یعنی مشاورت، اتفاق رائے اور اجتماعی وکالت، کے مطابق اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔ اس سلسلے میں افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطہ اور تعاون جاری رکھا جائے گا۔ مقصد یہ ہوگا کہ رکن ممالک کی مشترکہ ترجیحات کو صرف پالیسی مباحث تک محدود رکھنے کے بجائے عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

جی 24 ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مالیاتی اور ترقیاتی مفادات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا ایک اہم فورم ہے۔ پاکستان کی صدارت ایسے وقت میں آئی ہے جب متعدد ترقی پذیر ممالک قرضوں کے دباؤ، محدود مالی گنجائش، موسمیاتی خطرات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ اجتماعی قیادت کی کامیابی کا معیار حقیقی ترقیاتی نتائج ہونے چاہییں۔ پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ترجیحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد جی 24 کے پلیٹ فارم کو عالمی مالیاتی اداروں میں نمائندگی، ترقیاتی سرمایہ کاری اور موسمیاتی مالیات جیسے معاملات پر مشترکہ مؤقف آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ رکن ممالک ان ترجیحات پر کس حد تک اتفاق رائے پیدا کرتے اور انہیں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں عملی تجاویز کی شکل دیتے ہیں۔