اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے درآمد کیے جانے والے ٹائر اور ٹیوب کی کسٹمز مالیت کے تعین سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کراچی کا سابقہ فیصلہ بحال کر دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے، نے سندھ ہائیکورٹ کے 29 فروری 2024 کے فیصلے کو ختم کیا۔

تنازع کا آغاز کسٹمز ویلیوایشن کی ان رولنگز سے ہوا تھا جو اگست 2021 میں جاری کی گئی تھیں۔ ٹائر اور ٹیوب کے درآمد کنندگان نے ویلیوایشن رولنگ نمبر 1543، 1544 اور 1545 کے خلاف کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔ ٹریبونل نے قرار دیا تھا کہ یہ رولنگز کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ شقوں کی صریح پابندی کے بغیر جاری کی گئیں، اس لیے ان کی قانونی حیثیت نہیں بنتی۔ ٹریبونل نے متعلقہ کھیپوں کی ڈیوٹی اور ٹیکس کے لیے درآمد کنندگان کی ظاہر کردہ مالیت کو بنیاد بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

کسٹمز حکام نے ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں ریفرنس دائر کیے، جہاں ڈویژن بینچ نے ٹریبونل کا حکم ختم کرکے معاملہ محکمے کے حق میں طے کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے اس نتیجے کو الٹ دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ٹریبونل کے حقائق سے متعلق نتائج ایسے دستاویزی مواد پر مبنی تھے جسے کسٹمز حکام نے مؤثر طور پر متنازع نہیں بنایا تھا۔

فیصلے میں کسٹمز مالیت طے کرنے کے قانونی طریقہ کار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ زیرِ بحث ویلیوایشن میں کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت مقررہ ترتیب اختیار کرنے کے بجائے براہ راست فال بیک طریقہ استعمال کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق ٹیکس اور کسٹمز معاملات میں حقائق طے کرنے کے لیے اپیلیٹ ٹریبونل بنیادی حتمی فورم ہے اور ہائیکورٹ ریفرنس اختیار میں اس کے حقائق سے متعلق نتائج کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرسکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ وہ ریکارڈ کے خلاف، قیاس پر مبنی یا شواہد سے محروم ہیں۔

اس فیصلے کی عملی اہمیت درآمدی اشیا کی کسٹمز ویلیوایشن اور محکمے و درآمد کنندگان کے درمیان تنازعات کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے کسی عمومی شرح یا تمام مستقبل کی درآمدات کی قیمت مقرر نہیں کی بلکہ مخصوص مقدمے میں قانونی طریقہ کار اور ٹریبونل کے حقائق سے متعلق نتائج کی حیثیت واضح کی ہے۔