پاکستان کی مقامی آئل ریفائنریز نے وفاقی کابینہ کی جانب سے پٹرول کی قیمت کے طریقۂ کار میں حالیہ تبدیلی پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ نئے فارمولے کے تحت ریفائنریز پر ایسا مالی بوجھ منتقل ہو رہا ہے جو ان کی پیداواری لاگت اور منافع کے مارجن کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اور نقصان سے متعلق اندازے ریفائنری صنعت کے مؤقف پر مبنی ہیں اور انہیں حکومتی حتمی مالی نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے 30 اکتوبر کے خط کے مطابق کابینہ نے ایک عارضی قیمت طریقۂ کار کی منظوری دی جس میں اگلے 30 دن کے لیے بعض اجزا، جن میں پریمیئم، انسیڈنٹلز اور کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں، کو مارچ 2026 کی سطح سے منسلک کیا گیا۔ پاکستان اسٹیٹ آئل کی حقیقی درآمدی لاگت سے نکلنے والی قیمت اور نظرثانی شدہ ایکس ریفائنری قیمت کے فرق کو پیٹرولیم لیوی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔

ریفائنری حکام کے مطابق مجموعی مالی اثر تقریباً 49 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ اس میں قیمت کے فارمولے سے پیدا ہونے والا تقریباً 35 روپے فی لیٹر اثر اور کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق مزید رقم شامل ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں 14 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی کے ذریعے صارف قیمت پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریفائنریز کا اعتراض ہے کہ صارف ریلیف کا بوجھ صنعت پر غیر متناسب انداز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

سینرجیکو کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا کہ نئی تبدیلی کمپنی کے گراس ریفائننگ مارجن کو منفی کر سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب زیادہ قیمت والے خام تیل کی پروسیسنگ کی جا رہی ہو۔ اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے بھی کہا کہ کسٹمز ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی رقم کو ریفائنری اپ گریڈ منصوبوں کے لیے مخصوص رکھنے کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ صنعت کے نمائندوں کے دعوے ہیں، جن پر حکومتی اداروں کا تفصیلی جواب سامنے آنا باقی ہے۔

پاکستان میں ریفائنری اپ گریڈیشن کے لیے اربوں ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری زیر بحث رہی ہے۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کے نظام میں اچانک تبدیلیاں سرمایہ کاری کے فیصلوں اور منصوبوں کی بینک ایبلٹی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ نئی پالیسی کے عملی نتائج آئندہ قیمت کے ادوار، ریفائنریز کے مالی بیانات اور حکومت و صنعت کے درمیان ہونے والی مشاورت سے زیادہ واضح ہوں گے۔