اسلام آباد: حکومت نے بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری 2027 کی پہلی سہ ماہی میں کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کے مطابق یہ کمپنیاں پاور سیکٹر میں نجی شعبے کی شمولیت کے پہلے مرحلے کا حصہ ہوں گی۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر نو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 2027 کے اختتام تک نجکاری کے عمل میں لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کو شامل کرنا اس لیے اہم ہے کہ یہ ملک کے بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری علاقوں کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کی شرکت سے انتظامی کارکردگی، سرمایہ کاری اور صارفین کو خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

پاکستان کے بجلی کے شعبے کو گردشی قرض، لائن لاسز، وصولیوں میں کمی اور تقسیم کار اداروں کی مالی کمزوری جیسے دیرینہ مسائل کا سامنا ہے۔ نجکاری یا طویل مدتی نجی انتظام کے مختلف ماڈلز پر کئی برس سے بحث جاری ہے۔ موجودہ منصوبہ اس وسیع تر اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے جس میں حکومت سرکاری ملکیت والے اداروں پر مالی بوجھ کم کرنے اور بجلی کی تقسیم میں تجارتی نظم بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تاہم اعلان کردہ ٹائم لائن کو حتمی فروخت یا مکمل شدہ نجکاری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ کسی بھی کمپنی کی نجکاری سے پہلے مالی و قانونی جانچ، اثاثوں اور واجبات کی تشخیص، بولی کے طریقہ کار، ممکنہ سرمایہ کاروں کی اہلیت اور ریگولیٹری شرائط جیسے مراحل مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔ ملازمین، صارفین کے نرخ اور سروس کے معیار سے متعلق معاملات بھی عمل کے دوران اہم رہیں گے۔

نجکاری کمیشن کی موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق پہلی سہ ماہی 2027 ہدف ہے، جبکہ باقی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے بعد کے مراحل رکھے گئے ہیں۔ اس شیڈول پر عمل درآمد آئندہ مہینوں میں لین دین کی تیاری اور حکومتی منظوریوں کی رفتار سے واضح ہوگا۔