اسلام آباد: ورلڈ بینک گروپ کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے سندھ پراپرٹی ریسورسز اینڈ ایکسپینڈیچر پروگرام (PREP) کے لیے 150 ملین ڈالر کی فنانسنگ منظور کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پروگرام کا بنیادی مقصد سندھ میں شہری غیر منقولہ جائیداد ٹیکس کے نظام کو وسعت دینا، محصولات کی وصولی بہتر بنانا اور حاصل ہونے والی آمدن کو شہری و بلدیاتی خدمات پر زیادہ مؤثر انداز میں خرچ کرنا ہے۔
منصوبے کے تحت صوبے میں پراپرٹی ٹیکس کی بنیاد کو نمایاں طور پر وسیع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ ٹیکس بیس کو تقریباً پانچ گنا تک بڑھانے کی سمت کام کیا جائے گا، جبکہ اصلاحات کے ذریعے مقامی سطح پر محصولات اور اخراجات کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی کوشش ہوگی۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف زیادہ ٹیکس جمع کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو یہ واضح کرنا بھی ہے کہ مقامی طور پر حاصل ہونے والی آمدن شہری سہولتوں اور خدمات میں واپس لگائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں شہری جائیداد ٹیکس کو طویل عرصے سے صوبائی اور مقامی مالیات کے ایک ایسے شعبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں آمدن بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ جائیدادوں کی نامکمل رجسٹریشن، قدیم ویلیوایشن، محدود ڈیجیٹل ریکارڈ اور نفاذ کی کمزوریاں ٹیکس بیس کو محدود کرتی رہی ہیں۔ PREP کے تحت انتظامی اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے ان مسائل کو کم کرنے اور نظام کو زیادہ شفاف بنانے کی کوشش متوقع ہے۔
اس فنانسنگ کی منظوری سندھ حکومت کے لیے ایسے وقت اہم ہے جب بڑے شہروں اور تیزی سے پھیلتے شہری علاقوں میں نکاسی آب، سڑکوں، صفائی اور دیگر بنیادی خدمات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اگر پراپرٹی ٹیکس کی وصولی اور مقامی خرچ کے درمیان واضح ربط قائم ہوتا ہے تو بلدیاتی اداروں کی مالی گنجائش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم پروگرام کے عملی نتائج کا انحصار جائیدادوں کے درست ریکارڈ، منصفانہ تشخیص، وصولی کے مؤثر نظام اور عوامی اعتماد پر ہوگا۔
ورلڈ بینک کی منظوری فنانسنگ کا باضابطہ مرحلہ ہے؛ اہداف کی تکمیل مستقبل کی عمل درآمدی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ اس لیے ٹیکس بیس میں پانچ گنا توسیع کو موجودہ حاصل شدہ نتیجہ نہیں بلکہ پروگرام کا ہدف سمجھا جانا چاہیے۔

