اسلام آباد: عالمی بینک پاکستان میں اسٹارٹ اپس اور تیزی سے ترقی کرنے والے کاروباروں کے لیے سرمایہ تک رسائی بڑھانے کی غرض سے 50 ملین ڈالر کے ’فنڈ آف فنڈز‘ کے قیام میں معاونت کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ منصوبہ نجی سرمایہ کاروں کو مقامی وینچر کیپیٹل اور کاروباری سرمایہ کاری کے نظام میں لانے کے لیے سرکاری و ترقیاتی وسائل کو بطور catalyst استعمال کرنے پر مرکوز ہوگا۔
منصوبے کا نام ’پاکستان انٹرپرینیورشپ اینڈ پرائیویٹ انویسٹمنٹ کیٹالسٹ پراجیکٹ‘ بتایا گیا ہے۔ دستیاب منصوبہ جاتی معلومات کے مطابق اسے عالمی بینک کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے 2027 کے ابتدائی حصے میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اس مرحلے پر منصوبہ تیاری اور منظوری کے عمل میں ہے، اس لیے 50 ملین ڈالر کو پہلے سے جاری شدہ فنڈنگ نہیں سمجھنا چاہیے۔
فنڈ آف فنڈز کا ماڈل عام طور پر براہ راست ہر اسٹارٹ اپ میں سرمایہ لگانے کے بجائے منتخب سرمایہ کاری فنڈز کے ذریعے سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد مقامی فنڈ مینیجرز، نجی سرمایہ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو ایک ایسے ڈھانچے میں اکٹھا کرنا ہوتا ہے جہاں ابتدائی ترقیاتی سرمایہ مزید نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرسکے۔
پاکستانی اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو حالیہ برسوں میں عالمی وینچر کیپیٹل کی سست روی، بلند شرح سود اور سرمایہ کاروں کی زیادہ محتاط حکمت عملی کے باعث فنڈنگ کے دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مجوزہ عالمی بینک منصوبہ طویل مدتی سرمایہ، فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت اور high-growth کاروباروں کے لیے مالی راستے بڑھانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔
منصوبے کی حتمی ساخت، سرمایہ کاری کے انتخاب کا طریقہ، مقامی شراکت داروں کی ذمہ داریاں اور فنڈز کے اجرا کا شیڈول عالمی بینک کی منظوری اور بعد کی عملی تیاریوں سے مشروط ہوگا۔ اسی لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص اسٹارٹ اپ یا فنڈ کو سرمایہ ملنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اگر منصوبہ منظور ہوتا ہے تو اس کا بنیادی امتحان یہ ہوگا کہ ترقیاتی سرمایہ کتنی مؤثر انداز میں نجی سرمایہ کو متحرک کرتا، مقامی سرمایہ کاری اداروں کی صلاحیت بڑھاتا اور ایسے کاروباروں تک مالی وسائل پہنچاتا ہے جو روایتی بینک قرضوں تک محدود رسائی رکھتے ہیں۔
