اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ حالیہ معاشی استحکام کو تیز اور پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ کاری، نجی شعبے کی سرگرمی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو تیز کیا جائے۔ بینک کی تازہ پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ کے مطابق اگر پاکستان کی پالیسیاں اور ادارے اوسط متوسط آمدن والے ممالک کے معیار کے قریب پہنچ جائیں تو سالانہ معاشی نمو 6.2 سے 6.9 فیصد تک بڑھ سکتی ہے اور 2050 تک آمدن تقریباً تین گنا ہونے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں حالیہ میکرو اکنامک استحکام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ صرف مالی توازن بہتر ہونا طویل مدتی خوشحالی کے لیے کافی نہیں۔ پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو تقریباً 3.65 فیصد رہی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس بھی بہتر ہوا، لیکن فی کس آمدن کی رفتار اب بھی محدود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبادی کی رفتار کو دیکھتے ہوئے عام شہریوں کی آمدن میں نمایاں بہتری کے لیے مجموعی معاشی نمو کو زیادہ تیز اور مستقل بنانا ضروری ہوگا۔
عالمی بینک نے نجی سرمایہ کاری میں اضافے، کاروباری ماحول کی بہتری، پیداواری صلاحیت، انسانی سرمائے اور مؤثر اداروں کو بلند نمو کے بنیادی عناصر قرار دیا ہے۔ پاکستان میں طویل عرصے سے کم سرمایہ کاری، کم برآمدی تنوع، توانائی کی بلند لاگت اور پالیسی غیر یقینی جیسے عوامل نجی شعبے کی توسیع میں رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ استحکام کے بعد اگلا مرحلہ ایسی اصلاحات کا ہونا چاہیے جو کاروبار کو بڑھنے، روزگار پیدا کرنے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کی صلاحیت دیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور اصلاحاتی ایجنڈا جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مالی نظم، ٹیکس اصلاحات، سرکاری اداروں کی بہتری اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے معیشت کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر منتقل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ان اقدامات کے نتائج کا انحصار مستقل عمل درآمد اور پالیسی تسلسل پر ہوگا۔
عالمی بینک کی بلند نمو سے متعلق شرحیں پیش گوئی کے بجائے اصلاحاتی امکانات کی عکاسی کرتی ہیں؛ یعنی یہ اس صورت میں حاصل ہونے والی ممکنہ رفتار ہے جب پاکستان ادارہ جاتی اور پالیسی معیار میں نمایاں بہتری لائے۔ اس لیے 2050 تک آمدن تین گنا ہونے کا تخمینہ بھی مشروط منظرنامہ ہے، کوئی یقینی نتیجہ نہیں۔ رپورٹ پاکستان کے لیے بنیادی چیلنج کو واضح کرتی ہے: قلیل مدتی استحکام کو ایسی سرمایہ کاری اور پیداواری اصلاحات میں بدلنا جو کئی برس تک زیادہ روزگار اور حقیقی آمدن میں اضافہ فراہم کرسکیں۔
