چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں برکس رہنماؤں کے اجلاس کے اختتامی مرحلے پر ایسے نئے اقدامات پیش کیے ہیں جن کا مقصد توسیع یافتہ ’گریٹر برکس‘ کے درمیان مصنوعی ذہانت، تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو گہرا کرنا ہے۔ روئٹرز کے مطابق شی نے کہا کہ وسیع تر برکس تعاون کی کامیابی عملی اور پائیدار شراکت داری کی مضبوط بنیاد قائم کرنے سے مشروط ہے۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین برکس اے آئی اوپن سورس زون کے قیام میں قیادت کرے گا۔ اس تجویز کے تحت بڑے زبان ماڈلز، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور کھلے اے آئی ایکو سسٹم میں رکن اور شراکت دار ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس کے ساتھ برکس اسپیشل اکنامک زون پارٹنرشپ کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ چین اگلے سال برکس سروس ٹریڈ فورم کی میزبانی کرے گا تاکہ خدمات کی تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط کو وسعت دی جا سکے۔

شی جن پنگ نے صنعتی اور سپلائی چینز کے استحکام پر بھی زور دیا اور کہا کہ برکس ممالک کو ایک زیادہ مربوط منڈی کی تشکیل کے لیے تعاون بڑھانا چاہیے۔ روئٹرز کے مطابق 2026 میں بھارت برکس کی صدارت کر رہا ہے جبکہ 2027 میں یہ ذمہ داری چین سنبھالے گا، اور دونوں ممالک گروپ کے عالمی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے وسیع تر شراکت داری پر زور دے رہے ہیں۔

برکس کی رکنیت گزشتہ برسوں میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے اصل گروپ سے آگے بڑھ چکی ہے اور اس میں ایران، انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ مزید دس ممالک شراکت دار کی حیثیت سے اس فریم ورک سے منسلک ہیں۔ چین اور روس اس وسیع تر دائرے کے لیے بعض اوقات ’گریٹر برکس‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ برکس کے اندر تیار ہونے والے حل صرف رکن ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ انہیں عالمی جنوب کے دیگر ممالک کی ضروریات کے مطابق بھی قابل استعمال بنایا جانا چاہیے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے برکس کو زیادہ کثیر قطبی اور منصفانہ عالمی نظام کی سمت ایک اہم قوت قرار دیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے، اور برکس ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں زیادہ سے زیادہ تحمل کی اپیل کی ہے۔