امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی پر زور دیا ہے کہ یوکرین روسی ڈیزل اور آئل ریفائنری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا بند کرے، کیونکہ ان کے بقول ان حملوں سے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت بڑھ رہی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے 13 ستمبر کو آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے زیلنسکی سے اس معاملے پر بات کی ہے اور روسی ڈیزل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کا کہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر طویل فاصلے کے ڈرون حملے بڑھائے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں روسی ایندھن کی پیداوار متاثر ہوئی اور ملک کے بعض حصوں میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی۔ یوکرین کا مؤقف ہے کہ روسی ریفائنریز جنگی مشینری اور فوجی رسد میں کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں جائز فوجی اہداف سمجھا جاتا ہے۔ کییف یہ بھی کہتا ہے کہ روس مسلسل یوکرین کے بجلی اور توانائی کے نظام پر حملے کرتا رہا ہے۔

ٹرمپ نے روسی ڈیزل تنصیبات پر حملوں کو عالمی ایندھن کی دستیابی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس سے دوسرے ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ ڈیزل دباؤ کی وجہ صرف مشرق وسطیٰ نہیں بلکہ روس اور یوکرین کی جنگ میں ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حملے بھی ہیں۔ اس بیان میں امریکی صدر نے یوکرین کو دوسرے فوجی اہداف پر توجہ دینے کا مشورہ دیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ واشنگٹن اس مطالبے کو کسی مالی یا عسکری امداد کی شرط سے جوڑ رہا ہے یا نہیں۔

روئٹرز کے مطابق امریکی قومی سطح پر ڈیزل کی اوسط قیمت گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے اوپر چلی گئی، جیسا کہ قیمتوں کے نگران ادارے گیس بڈی نے رپورٹ کیا۔ ڈیزل ٹرکوں، ریل گاڑیوں، بحری جہازوں اور زرعی مشینری میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی بلند قیمتیں نقل و حمل، خوراک اور صنعتی لاگت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

روس نے بھی جنگ کے اثرات کے باعث رواں سال تیل کی پیداوار کا تخمینہ کم کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق ایک سرکاری مسودہ پیش گوئی میں روس نے 2026 کے لیے تیل کی پیداوار کا اندازہ 17 سال کی کم ترین سطح تک گھٹایا اور 2026 اور 2027 کے ایندھن برآمدی تخمینوں میں بھی نظر ثانی کی۔ ٹرمپ کا تازہ بیان اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ جنگ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے عسکری فوائد اور عالمی اقتصادی اثرات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔