پاکستان نے سعودی عرب کے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں مشرقی مغربی پائپ لائن پر کیے گئے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری بنیادی ڈھانچے، علاقائی امن اور بین الاقوامی قانون کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ترجمان کے مطابق شہری نوعیت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے ساتھ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف متعلقہ ملک کے لیے خطرہ بنتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مشرقی مغربی پائپ لائن سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔ توانائی تنصیبات پر حملے رسد، صنعتی سرگرمی اور عالمی منڈیوں کے اعتماد پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اگرچہ جاری واقعے کے مکمل آپریشنل اثرات سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات درکار ہوں گی، پاکستان کا بیان بنیادی طور پر شہری تنصیبات کے تحفظ اور ریاستی خودمختاری کے احترام پر مرکوز ہے۔
دفتر خارجہ نے سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ترجمان نے سعودی عرب کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کو دہرایا۔ دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی اور عوامی روابط کے تناظر میں یہ موقف پاکستان کی علاقائی پالیسی میں سعودی عرب کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔ موجودہ کشیدگی کے ماحول میں سفارتی رابطے، حملوں کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے قابل اعتماد شواہد ضروری ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت شہری تنصیبات کے تحفظ پر اتفاق خطے میں مزید کشیدگی روکنے کے لیے مشترکہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی صرف ایک ملک کا داخلی معاملہ نہیں رہتی، کیونکہ تیل کی رسد اور نقل و حمل میں خلل عالمی قیمتوں اور تجارتی راستوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے دفاعی نگرانی، خطرے کی پیشگی نشاندہی اور علاقائی رابطہ کاری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم کسی بھی ردعمل کو مصدقہ معلومات اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان کی مذمت نے سعودی عرب کے ساتھ سیاسی یکجہتی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کی مخالفت واضح کی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی حکام کی تحقیقات، ممکنہ نقصان کے جائزے اور علاقائی سفارتی کوششوں پر ہوگا۔




