بین الاقوامی امور کے ماہرین نے عالمی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار، جانی قربانیوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال میں عالمی تعاون دوبارہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ریڈیو پاکستان کے ایک تجزیاتی پروگرام میں ماہر ساجد تارڑ اور سابق سفارت کار اے ایم شاہد نے خطے میں شدت پسند گروہوں کے خطرات اور افغانستان کی صورت حال پر اپنے خیالات پیش کیے۔

ساجد تارڑ نے نائن الیون حملوں کی پچیسویں برسی کے تناظر میں کہا کہ آج کی نوجوان نسل کا بڑا حصہ اس دور کے واقعات اور ان کے اثرات سے براہ راست واقف نہیں۔ انہوں نے ایک امریکی اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان میں القاعدہ کی ممکنہ تنظیم نو پر تشویش ظاہر کی۔ یہ ایک تجزیاتی دعویٰ ہے جس کی آزادانہ تصدیق اور مسلسل سکیورٹی جائزہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عالمی جنگِ دہشت گردی میں بڑی انسانی اور معاشی قیمت ادا کی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ مختلف مسلح گروہوں کے ہاتھوں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ ایسے دعوے حساس نوعیت کے ہیں اور ان کی جانچ مستند سرکاری معلومات، بین الاقوامی نگرانی اور آزاد ذرائع کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

سابق سفارت کار اے ایم شاہد نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عالمی کوششوں میں امریکا کا ساتھ دیا اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف پاکستان کی مدد کرے اور افغانستان میں موجود حکام پر یہ دباؤ برقرار رکھے کہ کسی گروہ کو افغان سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہ کرنے دی جائے۔

تجزیے میں دوحہ معاہدے سے متعلق وعدوں، نمائندہ حکمرانی اور علاقائی ممالک کے مشترکہ مفادات کا بھی ذکر کیا گیا۔ پاکستان، چین، وسطی ایشیائی ریاستیں، امریکا اور دیگر ملک افغانستان سے پیدا ہونے والے سرحد پار خطرات کے بارے میں مختلف درجوں کی تشویش رکھتے ہیں۔ مؤثر ردعمل کے لیے انٹیلی جنس تعاون، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے، سرحدی نظم اور سفارتی رابطوں میں تسلسل ضروری ہے۔

ماہرین کے بیانات ایک رائے اور تجزیے کی حیثیت رکھتے ہیں، نہ کہ ہر دعوے کی آزادانہ تصدیق۔ تاہم ان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں اور پاکستان کی ماضی کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ پالیسی میں مشترکہ ذمہ داری اپنائی جانی چاہیے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی استحکام، معاشی مواقع اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تعاون بھی ناگزیر ہوگا۔