پاکستان نے اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک نئے، جامع اور پیشگی عالمی ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی خطرے کا مقابلہ متحدہ محاذ، مؤثر بین الاقوامی تعاون اور مضبوط علاقائی ہم آہنگی کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

بریفنگ نائن الیون کے پچیس برس بعد سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کوششوں کی تجدید کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت بدل رہی ہے اور پرانے طریقہ کار کو نئے خطرات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مختلف خطوں میں سرگرم گروہوں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اور انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی بھی عالمی سلامتی کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے عالمی انسداد دہشت گردی کوششوں میں پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کے خلاف بین الاقوامی مہم کی نمایاں کامیابیاں پاکستان کی کوششوں اور فعال تعاون سے ممکن ہوئیں۔ ان کے بیان کے مطابق اس جدوجہد میں نوے ہزار سے زیادہ پاکستانی، جن میں سکیورٹی اہلکار اور شہری شامل تھے، جان سے گئے۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی نمائندے کی اقوام متحدہ میں پیش کردہ تفصیل کے طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کی موجودہ پابندیوں کے نظام میں موجود خلا دور کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مؤقف یہ تھا کہ موجودہ انتظامات ہر قسم کے دہشت گرد خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہو رہے۔ پابندیوں کی مؤثریت کے لیے گروہوں، مالی سہولت کاروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق معلومات کا تیز اور غیر جانبدار تبادلہ ضروری ہوگا۔

خطاب میں افریقا، مشرق وسطیٰ اور افغانستان سے ابھرنے والے خطرات، انتہا پسند تحریکوں کے پھیلاؤ اور جدید ذرائع کے استعمال کا ذکر کیا گیا۔ یہ چیلنج مختلف علاقوں میں الگ صورت اختیار کرتے ہیں، اس لیے ایک ہی پالیسی کے بجائے مقامی حالات کے مطابق علاقائی تعاون اور عالمی قانونی فریم ورک کو یکجا کرنا ہوگا۔

پاکستانی نمائندے نے غیر ملکی قبضے کے حالات میں ریاستی دہشت گردی کے معاملے کو نظر انداز نہ کرنے اور اقوام متحدہ سے احتساب یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ یہ ایک حساس سفارتی موقف ہے جسے پاکستان نے حق خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں پیش کیا۔

پاکستان کی اپیل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی نظام کو سیاسی امتیاز سے بالاتر، جامع اور بدلتی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ آئندہ پیش رفت اس بات سے واضح ہوگی کہ سلامتی کونسل پابندیوں، معلومات کے تبادلے اور علاقائی شراکت داریوں میں عملی اصلاحات پر کس حد تک اتفاق کرتی ہے۔