اسلام آباد/مسقط: عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل اور جہاز رانی کے انتظامات پر ہونے والا علاقائی اجلاس مؤخر کر دیا ہے، جبکہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا کہا ہے۔ دی نیوز اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق صلالہ میں پیر کو ہونے والی ملاقات کو ایسے وقت ملتوی کیا گیا جب مشرق وسطیٰ میں حملوں، سمندری راستوں میں رکاوٹ اور توانائی کی رسد سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

عمان نیوز ایجنسی کے مطابق اجلاس کو بعد کی تاریخ تک اس لیے مؤخر کیا گیا تاکہ تعمیری مکالمے کے لیے زیادہ موزوں حالات پیدا کیے جا سکیں۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ مسقط خطے میں استحکام اور پائیدار تعاون کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانے کے عزم پر قائم ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر تہران اور مسقط نے مشترکہ طور پر اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایران نے اس اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے ساتھ ممکنہ انتظامات پر خلیجی ملکوں سے مشاورت کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل و گیس تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے اور حالیہ کشیدگی کے دوران یہاں تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔ بحرین پہلے ہی اعلان کر چکا تھا کہ وہ مجوزہ اجلاس میں شریک نہیں ہوگا، جبکہ دیگر کئی علاقائی ملکوں نے اپنی شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔

اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کی۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق انہوں نے سعودی عرب کی شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور سعودی قیادت و عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مل کر علاقائی تناؤ کم کرنے اور امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی اہم مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے، یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے واقعات نے توانائی کی عالمی رسد کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سعودی خریداروں اور تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر متاثرہ پائپ لائن طویل مدت بند رہی تو بحیرہ احمر کی جانب برآمدی صلاحیت دباؤ میں آ سکتی ہے۔

پاکستانی بیان میں کسی فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ زور سفارتی رابطوں، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام پر رکھا گیا ہے۔ عمانی اجلاس کی نئی تاریخ بھی فوری طور پر سامنے نہیں آئی، اس لیے فی الحال یہ پیش رفت مذاکرات کے خاتمے کے بجائے ان کے التوا کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔