اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری 22 سے 24 اکتوبر تک جرمنی کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر دوطرفہ روابط کو مزید مضبوط کرنا اور تجارت و سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔

صدر زرداری جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر کی دعوت پر یہ دورہ کر رہے ہیں۔ شیڈول کے مطابق وہ جرمن صدر سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملک سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مختلف شعبوں میں تعاون کرتے آ رہے ہیں۔

دورے کے دوران صدر زرداری جرمنی کے کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، تجارت کے فروغ اور صنعتی و اقتصادی روابط بڑھانے کے امکانات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے کاروباری سطح کے رابطے دورے کا نمایاں حصہ ہیں۔

پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات 1951 میں قائم ہوئے تھے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ترقیاتی تعاون، تعلیم، توانائی اور موسمیاتی امور سمیت متعدد شعبوں میں شراکت داری موجود ہے۔ 75 سال مکمل ہونے کا موقع دونوں حکومتوں کو مستقبل کے تعاون کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

صدر کا دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور یورپی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جرمن کمپنیوں کے ساتھ رابطے ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، قابل تجدید توانائی اور پیشہ ورانہ تربیت جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں، تاہم کسی نئے تجارتی یا سرمایہ کاری معاہدے کو اس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک دونوں جانب سے باضابطہ اعلان نہ ہو۔

دفتر خارجہ کے مطابق دورہ پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ دورے کے اختتام پر ہونے والے باضابطہ اعلانات سے واضح ہوگا کہ کن شعبوں میں عملی تعاون یا نئے معاہدوں پر پیش رفت ہوئی۔