مسلسل اپ ڈیٹس

بلوچستان: 10 بڑے شاہراہ منصوبے اور تکمیل شیڈول

سرکاری دستاویزات کے مطابق بلوچستان میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت دس بڑے شاہراہ منصوبے زیرِ تعمیر ہیں جن کی مجموعی منظور شدہ PC‑I لاگت 644.06 ارب روپے ہے۔ سرکاری شیڈول کے مطابق تین منصوبوں کی تکمیل دسمبر 2026 تک، چھ کی 2027 میں اور ایک بڑے سیکشن کی جون 2028 تک متوقع ہے۔ نمایاں منصوبوں میں این‑25 پر کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس (22.7 کلومیٹر، لاگت 6.89 ارب، تقریباً 85 فیصد پیش رفت، ہدف نومبر 2026)، نوکنڈی‑ماشکیل (103 کلومیٹر، 7.71 ارب، 79 فیصد پیش رفت)، جھل جاؤ‑بیلہ (79.89 کلومیٹر، 16.22 ارب، 70 فیصد پیش رفت)، خضدار‑کچلاک (330.52 کلومیٹر، 98.90 ارب، 61 فیصد پیش رفت) اور کراچی‑کرارو/وڈھ‑خضدار کے بڑے حصے شامل ہیں جن کی کل لاگت بالواسطہ طور پر بڑی ہے مگر پیش رفت بدلتی رہی ہے۔ ایم‑8 اور این‑50 کے مختلف سیکشنز (مثلاً آواران‑نال، ہوشاب‑آواران، یارک‑ساگو‑ژوب، کچلاک‑ژوب) بھی زیرِ تعمیر ہیں جن میں پیش رفت، لاگت اور تکمیلی اہداف مختلف ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان شاہراہوں کا مقصد صوبے میں رابطے بہتر کرنا، کراچی و سرحدی راستوں سے مال برداری آسان بنانا اور سفری سہولت بڑھانا ہے، تاہم حتمی تکمیل فنڈز کی فراہمی، تعمیراتی رفتار، سکیورٹی، زمین کے معاملات اور موسمی حالات سمیت متعدد عوامل پر منحصر رہے گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے